تیمرگرہ:امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کراچی میئر سلیکشن کو کالعدم قرار دے کر غائب شدہ 31بلدیاتی نمائندوں کو حاضر کر کے آزادانہ انتخاب یقینی بنائے، 23جون تک مطالبہ تسلیم نہ ہوا تو اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے دفتر کے سامنے عظیم الشان مظاہرہ ہوگا۔
سراج الحق نے کہاکہ پی ڈی ایم، پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی کی ناکامی کے بعد ملک کو ایڈہاک ازم اور مصنوعی نظام کے ذریعے چلانا 24کروڑ عوام کے لیے خطرناک ہو گا۔ ملک کے حقیقی وارثین عوام کو شفاف الیکشن کے ذریعے اپنے نمائندے منتخب کرنے کا موقع دیا جائے، الیکشن کمیشن تمام سیاسی سٹیک ہولڈرز کو بلا کر انتخابات کے لیے ایسا نظام وضع کرے جس پر سب کا اتفاق ہو اور نتائج پر کوئی اعتراض نہ کر سکے۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان کا کہنا تھا کہ دیر کو ڈویژن کا درجہ دیا جائے، مالاکنڈ کے حقوق کے لیے بڑی تحریک چلائیں گے، پی ڈی ایم کے ایک سالہ دور اقتدار میں عوام نے جو دیکھا، برداشت کیا وہ 75برسوں پر بھاری ہے، کوئی ایسا دروازہ نہیں جہاں لوگ فریاد لے کر جائیں۔ ملک دلدل میں دھنس چکا ، امن و امان کی صورت حال نازک، معاشی انتشار جاری، سیاسی وآئینی بحران خطرناک ہو چکے۔
انھوں نے کہا کہ سابقہ حکومت نے مالاکنڈ ڈویژن کی ترقی پر کوئی توجہ نہیں دی، علاقہ میں سی پیک روٹ، اکنامک اور انڈسٹریل زونز قائم کرنے کے وعدے فراموش کر دیے گئے۔ 45میگاواٹ کے کوٹو ہائیڈرو پراجیکٹ کی 2019ء میں تکمیل ہونی تھی، منصوبہ اب تک کھٹائی میں پڑا ہے۔ افغانستان اور تاجکستان تک بارڈر تجارت کے فروغ کے لیے نو پوائنٹس کی نشاندہی ہوئی، ایک بھی نہیں بنا، شاہی روٹ صرف کاغذوں میں ہے، مالاکنڈ تھری منصوبہ سے حکومت ڈھائی روپے یونٹ بجلی خرید کر 26روپے عوام کو فروخت کرتی ہے۔
