English Al Qamar Urdu جون 26, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

اسرائیلی ٹینکوں کی غزہ میں داخل ہونے کی کوشش؛ حماس کی شدید مزاحمت

القمر

غزہ:اسرائیلی ٹینک غزہ کے مضافات پر جمع ہوگئے اور چاروں جانب سے  شہر میں داخل ہوکر کسی بڑے حملے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم حماس کے جانبازوں کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیل نے غزہ میں برّی کارروائیوں کی دھمکی کو عملی جامہ پہنانے کی  کوشش شروع کردی۔ مضافاتی علاقوں اسرائیل فوج کے درجنوں ٹینک پہنچ گئے اور ایک ساتھ غزہ پر چڑھائی کے لیے آگے بڑھ رہے ہیں۔

حماس کی سخت مزاحمت کے باعث تاحال اسرائیلی ٹینک غزہ شہر میں داخل نہیں ہوسکے اور ان کی پیش قدمی رک گئی ہے۔حماس کے جانباز سامان جنگ کی قلت اور 24 روز سے جاری بمباری کے باوجود مستعد کھڑے ہیں۔ 

میڈیا رپورٹس  کے مطابق اسرائیل نے تاحال غزہ کی ناکہ بندی کی ہوئی ہے۔ بجلی، پانی اور خواراک کی فراہمی معطل ہے۔ ایندھن کی سپلائی نہ ہونے کی وجہ سے اسپتال میں  جنریٹرز بند ہوگئے اور ہزاروں طبی مراکز بند ہوگئے۔   

دوسری جانب  اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی حکومت نے جنگ بندی کے مطالبات کو سختی سے مسترد کردیاہے۔

عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر کا کہناہے کہ بنجمن نیتن یاہو نے  اس بات پر زور دیا ہے کہ 7 اکتوبر سے پہلے کی پوزیشن پر واپسی نہیں ہو سکتی۔

اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے نشاندہی کی کہ “اسرائیلی افواج غزہ کی پٹی میں ہمیشہ کے لیے موجود رہنے کا ارادہ نہیں رکھتیں، لیکن ہم حماس کو ختم کرنے کے لیے مقاصد پورے ہونے تک وہیں رہیں گے۔ 

ادھر نیتن یاہو اور امریکی صدرکے درمیان ٹیلی فونک رابطے بھی جاری ہیں ، دونوں نے کئی بار فونک رابطہ کیا ہے جبکہ خود جوبائیڈن بھی اسرائیل کا اس تناظر میں شروع میں ہی دورہ کر چکے ہیں۔

امریکہ نے اسرائیل کا مکمل ساتھ دینے کے اعلان کے علاوہ ہر قسم کا جدید ترین اسلحہ بھی اسرائیل کے لیے بروئے کار لانے کے اقدامات کیے ہیں۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے غزہ کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے،انہوں نے حماس اور اسرائیل سے یرغمالیوں کو رہا کرنے کا مطالبہ کر دیا۔28 اکتوبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے غزہ میں جنگ بندی کیلئے پیش کی گئی قرارداد بھی کثرت رائے سے منظور کی تھی جبکہ اسرائیل کی جانب سے قرارداد کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے