اسرائیلی حزبِ اختلاف کے رہنما یائر لاپید نے وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینی گروپ حماس کے خلاف ملک کی جنگ کے خاتمے کا انتظار کیے بغیر فوری طور پر مستعفی ہو جائیں۔
دی ٹائمز کی خبر کے مطابق،لاپید نے اسرائیلی نیوز چینل این 12 کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو کو فوراً عہدہ چھوڑ دینا چاہیے، ہمیں تبدیلی کی ضرورت ہے ،نیتن یاہو وزیرِ اعظم نہیں رہ سکتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم خود کو ایک ایسے وزیرِ اعظم کے تحت طویل مہم چلانے کی اجازت نہیں دے سکتے جو عوام کا اعتماد کھو چکا ہو۔
حماس کے 7 اکتوبر کو اسرائیل پر اچانک حملے کے چار دن بعد نیتن یاہو اور حزب اختلاف کے ایک اور رہنما بینی گانٹز نے جنگ کے دورانیے کے لیے ایک ہنگامی حکومت بنانے کے معاہدے کا اعلان کیا تھا۔
لاپید نے اُس وقت کہا تھا کہ وہ اس میں شامل نہیں ہوں گے اور اسرائیلی رہنماؤں پر حملے کو روکنے کے لیے ناقابلِ معافی ناکامی کا الزام لگایا۔
انہوں نے قبل از وقت انتخابات کا نہیں بلکہ پارلیمان میں عدم اعتماد کے ووٹ کا مطالبہ کیا جو نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی کے ایک اور رکن کی قیادت میں نئی حکومت کی تشکیل کی اجازت دے گا۔
انہوں نے کہا کہ یہ وقت انتخابات کا نہیں ہے،ہمیں لیکوڈ سے تعلق رکھنے والے دوسرے وزیرِ اعظم کے ساتھ قومی تعمیرِ نو کا انتخاب کرنا چاہیے۔
