اسلام آباد ہائیکورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی پارلیمانی لیڈرو سابق وزیر ماحولیات زرتاج گل کانام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کا حکم دے دیا ۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں زرتاج گل کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست پر جسٹس طارق محمود جہانگیری نے سماعت کی، عدالت میں اسسٹنٹ اٹارنی جنرل پیش ہوئے اور زرتاج گل کے خلاف ایف آئی آر کا ریکارڈ پیش کیا گیا ۔
جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کہا کہ رپورٹ میں زرتاج گل کا نام 2 ایف آئی آر میں درج ہے لیکن دہشت گردوں کا نام تو آپ ڈالتے نہیں عدالت میں ارکان اسمبلی آرہے ہیں ۔
جج نے استفسار کیا کہ آئی جی کو بلاؤنگا اور پوچھوں گا ،ایک سیاسی رہنما ریلی نکالتا ہے تو آپ اس کا نام ای سی ایل میں ڈال دیتے ہیں ، میرے پاس تو کسی گینگ یا دہشت گردوں کا کیس نہیں آیا، کوئی ہے پوچھنے والا جو نام ای سی ایل میں شامل کرنے کی سفارش کرتے ہیں وہ بھی ڈرتے ہیں ۔
جج اور وکیل کے درمیان مکالمہ ہوا ، عدالت نے ریمارکس دیئے کہ زرتاج گل پر کون کون سے کیسز درج ہیں ان کی تفصیل دکھائیں جس پر وکیل اسامہ طارق نے کہا کہ مقدمہ نمبر567 اور 340 میں جواب جمع کرادیئے، عدالت نے ریمارکس دیئے کہ کیا صرف 2 ہی مقدمات ہیں اور دونوں میں ضمانت پر ہیں ؟،جس پر وکیل نے بتایا کہ جی دونوں مقدمات میں ضمانت پر ہیں ۔
عدالت نے کہا کہ چھوٹے الزامات ہیں،تمام قابل ضمانت ہیں اور نام ای سی ایل میں ڈال دیتے ہیں ، ابھی نام نکال رہے ہیں،آئندہ ان کو بھی بلائیں گے جو منظوری دیتے ہیں۔
عدالت نے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل کو ایک ہفتے میں نام ای سی ایل سے نکال کر رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

