English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

افغانستان کے لیے امریکی امداد عسکریت پسند لے اُڑے؟ 

امریکا کے ایک واچ ڈاگ نے دعوٰی کیا ہے کہ امریکا نے افغانستان کی تعمیر و ترقی کے لیے جو امداد جاری کی ہے اُس کا ایک بڑا حصہ بعض عسکریت پسند گروپ لے اُڑے ہیں۔ یہ بات اسپیشل انسپکٹر جنرل فار افغانستان ری کنسٹرکشن (ایس آئی جی اے آر) نے ایک رپورٹ میں بتائی ہے۔

30 اگست 2021 کو افغانستان سے انخلا مکمل کرنے کے بعد سے اب تک امریکا نے افغانستان کی تعمیر و ترقی اور بہبودِ عامہ کے لیے مجموعی طور پر 17 ارب 90 کروڑ ڈالر کی امداد دی ہے۔ اتنی زیادہ امداد محض تین سال میں دیے جانے پر بھی افغانستان میں بھرپور تعمیر و ترقی دکھائی دیتی ہے نہ بہبودِ عامہ کے منصوبے۔

ایک انگریزی اخبار میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ایس آئی جی اے آر نے بتایا ہے کہ امریکا نے افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام کے بعد سے اب تک غیر معمولی سطح پر امداد ضرور دی ہے تاہم نگرانی کا نظام معقول حد تک اطمینان بخش نہیں۔

امریکا کی طرف سے جاری کی جانے والی بیرونی امداد کے درست استعمال پر نظر رکھنے والے اداروں کی کارکردگی معقول نہیں رہی۔ وہ افغانستان میں امداد عسکریت پسندوں کے ہاتھ لگ جانے کے خطرے کی نشاندہی بھی نہیں کرسکے ہیں۔

امداد کی تازہ ترین کھیپ 29 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کی ہے۔ ایس آئی جی اے آر کا دعوٰی ہے کہ افغانستان میں عسکریت پسند گروپ صورتِ حال سے بھرپور فائدہ اٹھارہے ہیں۔ افغان عوام کے لیے دی جانے والی امداد عسکریت پسندوں اور دہشت گردوں کے ہاتھ لگ رہی ہے۔ امریکی واچ ڈاگز اس حوالے سے کڑی نگرانی کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے