بنگلہ دیش میں طلبہ تحریک کے دوران تشدد کا گراف خطرناک حد تک بلند ہوگیا ہے۔ دو دن میں ہلاکتوں کی تعداد 40 سے زائد ہو ہوگئی ہے۔ پولیس سے جھڑپوں میں ہزاروں افراد زخمی ہوئے ہیں۔
بنگلہ دیشی حکومت نے طلبہ تحریک سے انتہائی متاثرہ علاقوں میں سیل فون اور انٹرنیٹ سروس بند کردی ہے۔ تمام تعلیمی ادارے پہلے ہی بند ہیں۔ یاد رہے کہ طلبہ تحریک کے تحت گزشتہ روز بنگلہ دیش میں مکمل شٹر ڈاؤن رہا۔
سرکاری ملازمتوں میں کوٹے کے خلاف دارالحکومت ڈھاکہ میں شروع کی جانے والی طلبہ تحریک کئی شہروں تک پھیل گئی ہے۔ عوام بھی مظاہروں میں شریک ہو رہے ہیں۔ کوٹے کے خلاف طلبہ کے احتجاج کو عوامی سطح پر بھی بالکل درست قرار دیا جارہا ہے۔ حکومت پر بات چیت کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔ عالمی اداروں اور تنظیموں نے بنگلہ دیش کی وزیرِاعظم شیخ حسینہ واجد پر زور دیا ہے کہ وہ طلبہ تحریک کے قائدین سے بات کرکے معاملات کو مزید بگڑنے سے بچائیں۔
وزیرِاعظم شیخ حسینہ واجد نے بدھ کو ٹی وی پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے بات چیت کی یقین دہانی کرائی تھی اور ساتھ ہی ساتھ طلبہ سے یہ بھی کہا تھا کہ وہ ملک کے عدالتی نظام پر بھروسا رکھیں، عدالتیں انصاف کریں گی۔
گزشتہ روز معاملات نے انتہائی خطرناک شکل اختیار کرلی۔ سیل فون اور انٹرنیٹ سروس بند کیے جانے پر طلبہ مزید مشتعل ہوگئے اور انہوں نے متعدد مقامات پر ٹرین سروس روکنے کی بھی کوشش کی۔ ٹی وی اسٹیشنز کو بھی آگ لگائی گئی ہے۔
ڈھاکہ کے علاوہ، چٹوگرام (چٹاگانگ)، رنگ پور اور کمیلا میں بھی حالات خراب ہوچکے ہیں۔ طلبہ تحریک سے جُڑنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اپوزیشن کی سیاسی جماعتیں بھی طلبہ تحریک کا بھرپور ساتھ دے رہی ہیں۔ اُن کے اسٹوڈنٹ ونگز احتجاجی طلبہ کے ساتھ مل کر شیخ حسینہ کی متنازع حکومت کو کمزور کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔

