English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

تمام آئی پی پیز کا فارنزک آڈٹ، معاہدے کرنیوالوں کے اثاثے منجمد کیے جائیں، حافظ نعیم

کراچی: امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ تمام آئی پی پیز کا فارنزک آڈٹ اور ان سے معاہدے کرنے والوں کے اثاثے منجمد کیے جائیں۔

گورنر ہاؤس کراچی کے سامنے دھرنے کے تیسرے روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بجلی کی لاگت کے مطابق بل بھیجے جائیں،بجلی کے بلوں میں کپیسٹی چارجز کی وصول کسی صورت قبول نہیں کریں گے،آئی پی پیز کے معاہدے ظالمانہ ہیں،جو مختلف حکومتوں نے کیے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ آئی پی پیز کے ساتھ جن افسران اور حکومتی نمائندوں نے معاہدے کیے ہیں ان سب کے اثاثے منجمد اورتمام آئی پی پیز کا فارنزک آڈٹ کیا جائے اور جولوگ ظالمانہ معاہدے میں ملوث ہیں ان کے لیے سزائے تجویز کی جائیں۔

حافظ نعیم نے کہا کہ وزیر اعظم، وزرائے اعلیٰ،سول و فوجی افسران ذاتی طور پر جتنی بڑی گاڑی میں سفر کرنا چاہیں کریں لیکن سرکار کی جانب سے 1300سی سی گاڑی میں سفر کریں اور ملک کو کرائسس سے نکالنے میں عوام کا ساتھ دیں۔  اگر حکومت سنجیدہ ہے اور معاملات آگے بڑھانا چاہتی ہے تو Confidence Building Majorکے طور پر فوری تنخواہ دار طبقے لگائے گئے ظالمانہ ٹیکسز کے سلیب کو واپس لینے کا اعلان کرے۔

امیر جماعت کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کے تمام مطالبات جائز اور قابل عمل ہیں، خود مذاکراتی کمیٹی نے اعتراف کیا کہ جماعت اسلامی کے تمام مطالبات جائز ہیں اور انہوں نے بہت اچھی تیاری کی ہے لیکن اب وہ مذاکراتی کمیٹی تلاش گمشدہ کا اشتہار بن چکی ہے،ہم ان کا تعاقب کریں گے اور حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کریں گے۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ آج راولپنڈی میں مشاورت کے بعد لاہور اور پشاور میں دھرنے کا اعلان کروں گااور پھر ہم شہر کی بڑی شاہراہوں پر بھی دھرنا دیں گے۔دبئی لیکس میں17ہزار پاکستانیوں نے دبئی میں جائیدادیں خریدیں جن میں سیاست دان،بیوروکریٹس، فوجی افسران اور صنعت کار شامل ہیں ان سب کا منی ٹریل ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ حکمران ایک جانب اوورسیز پاکستانیوں سے کہتے ہیں کہ پاکستان کی معیشت کو بہتر کرنے کے لیے ملک میں پیسے لائیں اور دوسری جانب خود باہر جائیدادیں بنارہے ہیں۔ حکمران طبقہ اپنی عیاشیاں ترک کرے،عوام کو ریلیف دے۔

اس موقع پرامیر کراچی منعم ظفر خان،نائب امیر کراچی مسلم پرویز، سیکرٹری کراچی توفیق الدین صدیقی،سیکرٹری اطلاعات زاہد عسکری،امرائے اضلاع، ٹاؤن و یوسی چیئرمینز ودیگر ذمہ داران بھی موجود تھے۔

حافظ نعیم الرحمن نے مزیدکہاکہ جماعت اسلامی کے تحت راولپنڈی مری روڈ میں گیارہواں اور کراچی گورنر ہاؤس میں تیسرے دن کا آغاز ہوگیا ہے، جماعت اسلامی ملک میں پر امن سیاسی تاریخ رقم کرنے جارہی ہے،ہم تصادم نہیں بلکہ غریب،متوسط طبقے اور تاجروں کو ریلیف دلوانا چاہتے ہیں، بجلی کی قیمتیں اس کی لاگت کے مطابق کروانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک جانب حکومت کہتی ہے کہ ہم آئی پی پیز سے دوبارہ مذاکرات نہیں کرسکتے اور مثال بھی غلط دیتے ہیں اور دوسری جانب پاک ایران گیس پائپ لائن میں منصوبہ جس میں ایران کہتا ہے کہ اب ہم 8 ارب ڈالر نہیں بلکہ 18 ارب ڈالر کا جرمانہ لگاسکتے ہیں،کسی بھی حکمران یا افسران کی جانب سے پاک ایران گیس پائپ لائن کے معاہدے کے حوالے سے بات کیوں نہیں آتی؟ حکمران کیوں 18 ارب ڈالر جرمانے کے لیے پریشان نہیں ہوتے؟

انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کے کہنے پر ایران سے گیس کا معاہدہ نہیں کرتے، اگر ایران سے گیس آئے گی تو اس سے صنعتی اداروں کو فائدہ ہوگا اور ایکسپورٹ میں اضافہ اور ملک ترقی کرے گا۔

امیر جماعت نے کہا کہ حکومتوں کی نااہلی کا عذاب عوام پر مسلط کیا جارہا ہے۔وزارت پیٹرولیم نے گیس کا پریشر کم کر کے باہر سے لائی ہوئی گیس مہنگے داموں میں فروخت کی جس کا خمیازہ بھی عوام بھگت رہے ہیں۔ آر ایل این جی کو صحیح وقت میں خریدا جاتا گزشتہ 2ماہ میں 105ارب رو پے کا نقصان نہیں ہوتا۔

حافظ نعیم کا کہنا تھا کہ تنخواہ دار طبقے پر ظالمانہ سلیب لگایا گیا ہے اور خود مذاکراتی ٹیم نے اعتراف کیا ہے کہ موجودہ سلیب سسٹم سے مجموعی طور پر 80 ارب روپے اضافی آئیں گے،پہلے ہی بجلی بھاری بلز بھیجے جارہے ہیں، تعلیم و صحت کی سہولت اورروزگار کے مواقع موجود نہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی نے 1994سے آئی پی پیز کے ساتھ ظالمانہ معاہدے کا آغاز کیا،پھر مشرف،مسلم لیگ ن اور پھر پی ٹی آئی کے دور میں معاہدے ہوئے، ان تمام پارٹیوں نے اپنی کابیناؤں میں ایسا افرادکو شامل رکھا جو آئی پی پیز سے متعلق تھے،خود حکومت میں شامل ایسے افراد ہیں جو براہ راست آئی پی پیز سے فائدہ اٹھانے والے ہے۔تمام آئی پی پیز کی اصل کپیسٹی کا تعین کیا جانچا ہیے اور 1994سے چلنے والی آئی پی پیز جن کی پرفارمنس خراب اور پلانٹس بوسیدہ ہوچکے ہیں انہیں اب ختم ہونا چاہیے۔

حافظ نعیم نے کہا کہ جماعت اسلامی کے دھرنے نے پاکستان کے 25کروڑ عوام کو روشن امید سے ہمکنار کردیا ہے،ہم قوم کی امید نہیں توڑنا نہیں چاہتے، ہر صورت میں مطالبات منظور کروائیں گے۔ کپیسٹی چارجز اور اضافی چارجز عوام نہیں دیں گے، حکومتی اعلیٰ افسران کو اپنی مراعات کم کرنا ہوگی۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ حکمران کہتے ہیں کہ ہم اضافی ٹیکس نہیں لگائیں گے تو کیسے پورا ہوگا؟ دنیا میں ایسا کون سا فارمولا ہے جس میں کھانے کی بنیادی چیزوں پر ٹیکس لگایا جاتا ہو؟ اگر کھانے پینے کی اشیا میں ٹیکس لگایا جائے گا تو مہنگائی کیسے کم ہوگی؟ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے آٹا،چینی،دال سمیت اشیائے خور و نوش سے ٹیکس ختم کرنا ہوگا۔ تماشا یہ ہے کہ وزیر خزانہ اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہوکر کہتے ہیں کہ ہم نے اسٹیشنری سے ٹیکس واپس لے لیا ہے اور لیکن مالیاتی ایکٹ میں اسٹیشنری ٹیکس موجود ہے اس سے بڑا جھوٹ اور دھوکا کیا ہوسکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے