English Al Qamar Urdu جون 26, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بلوچستان لہولہان:سیکورٹی اہلکاروں سمیت41 افرادجاں بحق‘23 دہشت گرد ہلاک

کوئٹہ:دہشت گردی کے واقعات میں جاں بحق شخص کی میت اسپتال میں رکھی ہے‘ چھوٹی تصویر میں ایک میت کو ایمبولینس کے ذریعے اسپتال منتقل کیا جارہا ہے جبکہ ایک تصویرمیں لواحقین غم سے نڈھال ہیں

کوئٹہ/پشاور/ڈیرہ اسماعیل خان (نمائندہ جسارت+صباحح نیوز +مانیٹرنگ ڈیسک) بلوچستان میں ایک ہی دن میں دہشت گردی کے پے درپے واقعات رونما ہوئے ہیں جس کے نتیجے میں سیکورٹی اہلکاروں سمیت 41افراد جاں بحق ہوگئے ۔ آئی ایس پی آر کے مطابق جوابی کارروائی میں 21 دہشت گرد بھی مارے گئے ہیں۔موسیٰ خیل، مستونگ، بولان اور قلات میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات پیش آئے۔ڈان نیوز کے مطابق ہفتے اور اتوار کی درمیانی رات میں نامعلوم مسلح افراد نے مستونگ، قلات، پسنی اور سنتسر میں لیویز اور پولیس تھانوں پر حملے کیے، جس کے نتیجے میں متعدد اموات ہوئیں۔سبی، پنجگور، مستونگ، تربت، بیلہ اور کوئٹہ میں دھماکوں اور دستی بم حملوں کی بھی اطلاعات موصول ہوئیں، حکام نے تصدیق کی ہے کہ حملہ آوروں نے مستونگ کے بائی پاس علاقے کے قریب پاکستان اور ایران کو ملانے والے ریلوے ٹریک کو دھماکے سے اڑا دیا۔قلات کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) دوستین دشتی کے مطابق ضلع قلات میں رات بھر ہونے والے واقعات میں سیکورٹی اہلکاروں سمیت 11 افراد جاں بحق اور 6 زخمی ہوئے۔رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ مسلح افراد نے پسنی تھانے پر حملہ کیا اور اہلکاروں کو زدوکوب کرنے کے بعد وہاں کھڑی 3گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کو جلا دیا۔حملہ آور گوادر کے ساحلی قصبے سنتسر میں ایک اور تھانے میں توڑ پھوڑ کرنے کے بعد سرکاری اسلحہ بھی ساتھ لے گئے۔حکام کے مطابق مسلح افراد نے لیویز تھانہ کھڈکوچہ پر حملہ کیا اور وہاں موجود اہلکاروں کو یرغمال بنایا جب کہ قلات میں مسلح افراد کا قانون نافذ کرنے والے اداروں سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ ایس پی دشتی کا کہنا تھا کہ جھڑپوں میں شہید ہونے والوں میں لیویز کے 4 سپاہی احسن اللہ، علی اکبر، رحمت اللہ اور نصیب اللہ شامل ہیں جب کہ پولیس سب انسپکٹر حضور بخش، ایک قبائلی رہنما اور 2 شہری بھی ان حملوں میں جاں بحق ہوئے۔ڈسٹرکٹ کمشنر نعیم بازئی نے نجی میڈیا گروپ ڈان کو بتایا کہ قلات کے اسسٹنٹ کمشنر آفتاب لاسی فائرنگ کے تبادلے میں زخمی ہوگئے۔ایس پی دشتی نے بتایا کہ قلات کے علاقے مہلبی میں مسلح افراد نے قبائلی شخص کے ہوٹل اور گھر پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں ملک زبیر محمد حسنی جاں بحق ہوگئے۔ایس پی نے بتایا کہ یہ جھڑپیں کوئٹہ کراچی ہائی وے کے مختلف مقامات پر ہوئیں، راستے کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے اور اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔دریں اثناء کچھی کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) دوست محمد بگٹی نے کہا کہ ضلع بولان سے 6 افراد کی لاشیں ملی ہیں، جنہیں گولیاں مارکر قتل کیا گیا ہے۔اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) ڈھاڈر پیر بخش بگٹی نے بتایا کہ 2 لاشیں تباہ شدہ پل کے نیچے دبی ہوئی تھیں اور 4 لاشیں قومی شاہراہ میں کولپور کے مقام پر ملی ہیں، اندازہ ہے مقتولین کو شناختی کارڈ چیک کرکے قتل کیا گیا ہے جب کہ ان کی شناخت کا عمل ابھی مکمل نہیں ہوا ہے۔بلوچستان کے ضلع موسٰی خیل کے علاقے راڑہ شم کے مقام پر ٹرکوں اور مسافر بسوں سے اتارکر شناخت کے بعد 23 افراد کو فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا۔اسسٹنٹ کمشنر نجیب کاکڑ نے بتایا کہ مسلح افراد نے بین الصوبائی شاہراہ پر ناکہ لگاکر مسافروں کو بسوں سے اتارا اور شناخت کے بعد 23 افراد کو فائرنگ کرکے قتل کردیا۔ اسسٹنٹ کمشنر نجیب کاکڑ نے فرانسیسی خبرایجنسی کو بتایا کہ جاں بحق ہونے والوں کا تعلق پنجاب سے تھا، مسلح افراد نے 23 گاڑیوں کو بھی آگ لگا دی جن میں 17 ٹرک، 2 مسافر وین اور 4 پک اپ گاڑیاں شامل تھیں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے اس حملے کی ذمے داری قبول کی ہے اور اسے حالیہ برسوں میں خطے میں ہونے والی فائرنگ کے بدترین واقعات میں سے ایک قرار دیا ہے۔ترجمان پولیس کے مطابق پولیس کی بھاری نفری کے علاوہ لیویز حکام موقع پر پہنچ گئے ہیں اور لاشوں کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جب کہ واقعے کی مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ بلوچستان کی صوبائی حکومت کے ترجمان شاہد رند نے بی ایل اے کی جانب سے کیے گئے متعدد حملوں میں کم از کم 39 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق گزشتہ رات بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردوں کی جانب سے بزدلانہ حملے کیے گئے، حملوں کا مقصد بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال خراب کرنا تھا۔ترجمان پاک فوج نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز کی موثر اور بروقت کارروائی میں 21 دہشت گرد ہلاک ہوئے، آپریشن کے دوران پاک فوج کے 10 جوان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 4 اہلکار بھی شہید ہوئے۔وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ کسی بلوچ نے کسی پنجابی کو نہیں بلکہ دہشت گردوں نے پاکستانیوں کو مارا ہے، یہ ناراض بلوچ نہیں، دہشت گرد اور شرپسند ہیں اور یہ ظالم بہت جلد کیفر کردار تک پہنچیں گے۔کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کا کوئی قبیلہ نہیں، یہ دہشت گرد زمین پر فساد پھیلا رہے ہیں، بی ایل اے کے جن دہشت گردوں نے گن کا انتخاب کرتے ہوئے کاروبار کرنے والے معصوم لوگوں کو بسوں سے اتار کر قتل کیا، کیا ان دہشت گردوں کے ہمدرد ان کے اہلخانہ کو جواب دے سکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ریاست اپنی رٹ قائم کرے گی جس کے لیے ہر ذریعہ استعمال کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ہماری سوسائٹی کے دیگر لوگ اور سیاسی جماعتیں فیصلہ کرلیں کہ آپ ان لوگوں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہتے ہیں جو آزاد بلوچستان کی بات کرتے ہیں یا پھر ان کے ساتھ کھڑے ہونا چاہتے ہیں پاکستان کو مضبوط کرنے، بلوچستان کی ترقی کی بات کررہے ہیں۔سرفراز بگٹی نے کہا کہ مذاکرات کا حامی ہوں لیکن مذاکرات کس کے ساتھ کیے جائیں، معصوم مزدوروں کے قاتلوں کے ساتھ مذاکرات کروں، البتہ جو مذاکرات کرنا چاہتا ہے، ان کے لیے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں لیکن ایسا نہیں ہوسکتا آپ معصوموں کو قتل کریں اور ہم خاموش تماشائی بن جائیں۔انہوں نے کہا کہ کیا بلوچستان کے لوگ پرامن ہیں اور وہ ترقی چاہتے ہیں، پھر یہ کون لوگ ہیں جو امن نہیں چاہتے، یہ بی ایل اے، دہشت گرد اور ان کے ہمدر، جو سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں، کچھ لوگ باہر بیٹھ کر لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔علاہ وزیں لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ و چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے کہا ہے کہ حملہ آور ناراض بلوچ نہیں دہشت گرد ہیں، بلوچستان میں حملہ کرنے والے دہشت گردوں کو بھرپور جواب دیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے حالات خراب کرنے میں بیرونی عناصر موجود ہیں جن کی خواہش ہے کہ بلوچستان عدم استحکام کا شکار ہو، یہ حملہ ایک دم سے نہیں ہوا یہ باقاعدہ منصوبہ بندی سے ہوا ہے، جنہوں نے حملہ کیا ہے وہ دہشت گرد ہیں، ہماری کسی انٹیلی جنس ایجنسی کی کوئی ناکامی نہیں ہے، جہاں تک کچے کے علاقے کی بات ہے ہم نے دونوں صوبوں کو ان بورڈ لے لیا ہے۔وزیر داخلہ نے کہا کہ دہشت گردی اس وقت ہمارے لیے مسئلہ ہے اور یہ پوری منصوبہ بندی کے ساتھ ہوا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جو دہشت گردی ہو رہی ہے اس میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) شامل ہے، جو گزشتہ روز واقعات ہوئے ہیں اس میں کچھ اور قوتیں بھی شامل ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹی ٹی پی نے اپنا سارا کا سارا ہیڈکوارٹر افغانستان میں رکھا ہے، اس میں بہت سارے لوگ شامل ہیں جن کو ہم نے خود چھوڑا تھا، جو لوگ ہم نے چھوڑے تھے وہی آج دہشت گردی کر رہے ہیں۔صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وفاقی وزیر اطلاعات عطاتارڑ، وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اور چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول زرداری نے دہشت گردی کے بدترین واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔صدر مملکت آصف علی زرداری نے دہشت گردوں کے حملے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پراظہار افسوس کرتے ہوئے کہا ہے کہ بے گناہ انسانیت کا ظالمانہ قتل پوری انسانیت کا قتل ہے، دہشت گرد ملک ، قوم اور انسانیت کے دشمن ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں کسی بھی قسم کی دہشت گردی قابل قبول نہیں، ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک ہماری جنگ جاری رہے گی۔ انہوں نے مقامی انتظامیہ کو ہدایت دی کہ زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جائے جب کہ دہشت گردی کے واقعات کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔دوسری جانب شمالی وزیرستان کے سب ڈویژن رزمک میں بم دھماکے کے باعث 4افراد جاں بحق اور 8 زخمی ہوگئے۔پولیس کے مطابق دھماکے کی نوعیت معلوم کی جا رہی ہے۔ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ریسکیو ٹیموں نے زخمیوں کو کیٹیگری ڈی اسپتال رزمک منتقل کر دیا ہے۔مزید برآں ڈیرہ اسماعیل خان کے تھانہ ہتھالہ کی حدود میں پولیس چیک پوسٹ ٹکواڑہ پر گزشتہ شب دہشت گردوں نے راکٹوں سے حملہ کردیا، راکٹ کے حملوں سے معجزانہ طور پر کوئی جان و مالی نقصان نہیں ہوا، دہشت گردوں نے پولیس پر فائرنگ بھی کی ، پولیس کی جوابی فائرنگ سے دہشت گرد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے