English Al Qamar Urdu جون 26, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بلوچستان میں دہشت گردی سیکورٹی اداروں کی کارکردگی پرسوالیہ نشان ہے‘حافظ نعیم الر حمن

لاہور: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن حلقہ خواتین کے ورکرز کنونشن سے خطاب کررہے ہیں

لاہو ر(نمائندہ جسارت)امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ کل بدھ 28اگست کو کامیاب ملک گیر شٹرڈائون ہڑتال ہو گی، حکمرانوں کو بجلی کی قیمتوں، ٹیکسز اور اپنی مراعات میں کمی کرنا پڑے گی، جماعت اسلامی کے دھرنے میں بھرپور شرکت پر خواتین کو مبارک باد دیتا ہوں، یکم ستمبر سے شروع ہونے والی ملک گیر ممبرسازی کمپین میں خواتین کو بھی ممبر بنایا جائے گا، قومی مزاحمتی تحریک کی کامیابی کے لیے خواتین کا کردار اہم ہے جو ملک کی آبادی کا نصف ہیں، جماعت اسلامی کے قومی ایجنڈے میں خواتین کے لیے وراثت کا حق، بچیوں کی تعلیم اور ان کے تحفظ کو یقینی بنانا سرفہرست ہے، جماعت اسلامی حلقہ خواتین رابطہ عوام مہم میں بڑھ چڑھ کر کردار ادا کرے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے منصورہ میں جماعت اسلامی حلقہ خواتین کے ضلعی و زونل ذمے داران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر حمیرا طارق، ڈپٹی سیکرٹریز ثمینہ سعید،، ڈاکٹر زبیدہ جبیں، ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی،ناظمہ صوبہ وسطی پنجاب نازیہ توحید شریف،ناظمہ حلقہ لاہور عظمیٰ عمران ، اراکین شوریٰاور حلقہ لاہور کی تمام ناظمات بھی کنونشن میں موجود تھیں۔ آن لائن زوم پر ناظمہ صوبہ وسطی پنجاب ثمینہ احسان، ناظمہ صوبہ جنوبی پنجاب شازیہ سیال کراچی سمیت پورے پاکستان سے دیگر خواتین نے شرکت کی۔امیر جماعت نے موسیٰ خیل بلوچستان میں دہشت گردی واقعے میں 23 مسافروں کے قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ جس لرزہ خیز انداز میں شہریوں کو قتل کیا گیا وہ سخت تکلیف دہ ہے، یہ سیکورٹی اداروں کی کارکردگی پرسوالیہ نشان ہے، حکومت شہریوں کے جان و مال کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام نظر آرہی ہے۔ سندھ اورجنوبی پنجاب میں کچے کے ڈاکوؤں کو کھلی چھٹی ملی ہوئی ہے جبکہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گرد جب جسے چاہیں معصوم شہریوں کو نشانہ بنالیتے ہیں۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ اسلامی تحریک کا مزاج اور مشن وہی ہے جس نے 23سال کے قلیل عرصے میں اسلام کا عظیم انقلاب برپا کردیا۔ حضورؐ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا، ظلم کے خلاف آواز بلند اورزمین پر اللہ کے نظام کے نفاذ کے لیے جدوجہد کرنا امت کا کام ہے، یہ کارِ نبوت ہے، جماعت اسلامی سیاست کو عبادت سمجھ کر کرتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ آئین کی بالا دستی اور عدل و انصاف کی آزادی سے ہی پاکستان مستحکم ہو سکتا ہے، ملک پر 77برس سے چند خاندانوں اور کالے انگریزوں کی حکمرانی ہے، انھوں نے ہر شعبہ زندگی تباہ کر دیا، جماعت اسلامی نے عوام کو جاگیرداروں، وڈیروں کے تسلط سے آزاد کرانے، الیکشن اور لینڈ ریفارمز، جمہوریت آزادیوں، خواتین اور نوجوانوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ’’حق دو عوام کو‘‘ تحریک کو ازسر نو منظم کر کے یکم ستمبر سے ملک گیر رابطہ عوام مہم کے آغاز کا فیصلہ کیا ہے، اسی طرح 14روزہ دھرنے کے بعد حکمرانوں کو معاہدے پر عمل درآمد کرانے کے لیے جماعت اسلامی کی جدوجہد بھی جاری ہے جس کے تحت لاہور، راولپنڈی، ملتان، پشاور میں جلسے کیے، اندرون سندھ، بلوچستان اور کراچی کے دورے کیے گئے، تنظیمی اجلاس ہوئے اور حلقہ خواتین ورکرز کنونشن کا انعقاد ہوا تاکہ آنے والے دنوں میں ایک منظم اور بھرپور جدوجہد کا آغاز کیا جائے۔ جماعت اسلامی پُرامن مزاحمت پر یقین رکھتی ہے، ہم کوئی فرقہ وارانہ تحریک نہیں اور نہ ہی کوئی مسلکی تنظیم یا جماعت ہے ، جماعت اسلامی فرقے اور مسلک کی بنیاد پرلوگوں کو تقسیم کرنے کو باطل سمجھتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم اسلامی تحریک ہیں اور اس کا مطلب ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی نبوت کی گواہی ہم پوری انسانیت کو دیں گے،طاغوت سے انکار اور ظالم کا مقابلہ کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ تقویٰ یہ نہیں کہ انسان دنیاوی زندگی کے معاملات کو چھوڑ کر رہبانیت اختیار کر لے بلکہ اس کا مطلب ہے کہ گناہ، ظلم اور فکری آلودگی سے دل و دماغ کو پاک کر کے زمین پر اللہ کے نظام کے نفاذ کے لیے کوششیں کی جائیں۔ انھوں نے کہا کہ حق کے لیے جدوجہد میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اسلامی تحریک سے وابستہ افراد اپنے آپ کو تمام حالات سے مقابلہ کرنے کے لیے تیار کریں۔ فرسودہ نظام اور اس پہرے داروں کے خلاف آنے والے دنوں میں جدوجہد تیز تر ہوگی۔

 

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے