
غزہ /تل ابیب /واشنگٹن /اسلام آباد / کیمرون (مانیٹرنگ ڈیسک /نمائندہ جسارت) 6 یرغمالیوں کی لاشیں ملنے پر اسرائیل میں حکومت مخالف مظاہرے شروع ہوگئے، ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے ‘نیتن یاہو کے خلاف شدید نعرے بازی‘ آج پیر کے روز ملک گیر ہڑتال کا اعلان‘ ملک کی سب سے بڑی ٹریڈ یونین نے بھی ہڑتال کی کال دے دی‘ملک کاپہیہ جام کرنے کا اعلان‘حماس سے معاہدہ اور یرغمالیوں کو رہا کرانے کامطالبہ ‘دوسری جانب حماس نے کہا ہے کہ یرغمالیوں کو نقصان نہ پہنچانے کی پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہیں‘تمام یرغمالی اسرائیل کے فضائی حملے میں مارے گئے‘ ہم یرغمالیوں کا جوبائیڈن سے زیادہ خیال رکھتے ہیں حماس نے کہا ہے کہ یرغمالیوں کی ہلاکت اسرائیلی حملے میں ہوئی‘ مقبوضہ بیت القدس علاقے مغربی کنارے میں اسرائیلی پولیس کی گاڑی پر حملے کے دوران 3 اہلکار ہلاک ہوگئے‘اسرائیلی فورسز نے حملے کے شبہ میں ایک فلسطینی کو گولی مارکرشہید کردیا۔اسرائیل کی ٹریڈ یونین ہسٹاڈرٹ کے سربراہ آرنون بار ڈیوڈ کا کہنا ہے کہ ایئرپورٹس سمیت پوری اسرائیلی معیشت کو ہڑتال سے روک دیا جائے گا۔یرغمالیوں کی لاشیں ملنے کے بعد یروشلم اور تل ابیب میں ہزاروں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے اور نیتن یاہو کی حکومت کے خلاف شدید احتجاج کیا۔یرغمالیوں کے خاندانوں کے فورم کا کہنا ہے کہ مزید چھ یرغمالیوں کی ہلاکت نیتن یاہو کی حماس کے ساتھ جنگ بندی معاہدہ کرنے میں ناکامی کا براہ راست نتیجہ ہے۔حماس نے 6 اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشیں ملنے پر کہا ہے کہ یہ اسرائیلی فوج کے فضائی حملے میں مارے گئے تھے۔عرب میڈیا کے مطابق حماس رہنما عزت الرشیق نے کہا ہے کہ ہم اسرائیلی یرغمالیوں کو نقصان نہ پہنچانے کی پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہیں۔ جن 6 یرغمالیوں کی لاشیں ملی ہیں وہ اپنی ہی فوج کے حملے میں ہلاک ہوئے۔حماس کے رہنما نے امریکی صدر جوبائیڈن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اسرائیلی یرغمالیوں کا خیال امریکی صدر سے زیادہ بہتر طریقے سے رکھتے ہیں۔ حماس کے ایک مقامی لیڈر نے کہا کہ یرغمالیوں کی زندگیوں کو محفوظ بنانے کے لیے امریکا سمیت دیگر ہمدردوں کو چاہیے کہ اسرائیلی فوج کو اندھا دھند بمباری سے روکیں۔خیال رہے کہ رفح کی ایک سرنگ سے 6 یرغمالیوں کی لاشیں ملی ہیں جن میں ایک امریکی اور ایک روسی نژاد اسرائیلی بھی شامل ہیں ۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق حماس سے اسرائیلی یرغمالیوں کی بازیابی کے لیے متحرک گروپس، فورمز اور اہل خانہ نے 6 یرغمالیوں کی لاشیں ملنے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیتن یاہو اور ان کی حکومت نے یرغمالیوں کو مرنے کے لیے اکیلا چھوڑ دیا ہے‘ صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا، اب عوام تیار رہے‘ آج پورا ملک کانپے گا‘ جگہ جگہ مظاہرے کیے جائیں گے اور حکومت کا احتساب کیا جائے گا۔ یرغمالیوں کی بحفاظت واپسی کے لیے تحریک چلانے والی تنظیم اور اس میں شامل یرغمالیوں کے خاندانوں نے غزہ سے اپنے رشتہ داروں کی لاشیں ملنے کا ذمہ دار اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو قرار دے دیا۔ مسنگ فورم نے کہا کہ جن 6 افراد کی لاشیں ملی ہیں وہ زندہ ہوتے اگر نیتن یاہو کی حکومت حماس کے ساتھ جنگ بندی معاہدے پر دستخط کردیتی۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ انہیں غزہ کی ایک سرنگ سے 7 اکتوبر کو حماس کی جانب سے اغوا کرکے یرغمال بنائے جانے والے مزید 6 افراد کی لاشیں ملی ہیں۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ جن افراد کی لاشیں ملی ہیں‘ ممکنہ طور پر انہیں ایک یا 2 دن پہلے قتل کیا گیا ہے۔عالمی ادرہ صحت نے اسرائیلی مظالم سے تباہ حال وسطی غزہ میں انسداد پولیو مہم کا آغاز کر دیا تاہم قابض صیہونی ریاست کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے پولیو مہم کے دوران جنگ بندی کی خبروں کی تردید کر دی۔عرب میڈیا کے مطابق وسطی غزہ میں انسداد پولیو مہم کا پہلا مرحلہ شروع ہو گیا ہے، عالمی ادارہ صحت کے عملے کی وسطی غزہ میں پولیو ویکسی نیشن سے متعلق لسٹ بھی جاری کی گئی ہے، وسطی غزہ میں کلینکس، اسکولوں اور دیگر مقامات پر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔ اسرائیلی وزیر اعظم ہاؤس کا کہنا ہے کہ غزہ میں پولیو کے قطرے پلانے کے لیے عام جنگ بندی کی خبریں غلط ہیں، اسرائیل صرف ویکسینیٹرز کے گزرنے کے لیے ایک انسانی راہداری کی اجازت دے گا، ایسے علاقوں کی نشاندہی کی جائے گی جو چند گھنٹوں تک ویکسین کے لیے محفوظ ہوں گے۔فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کا کہنا ہے کہ جن یرغمالیوں کی لاشیں ملیں وہ اسرائیلی فوج کی جانب سے کیے گئے فضائی حملوں میں ہلاک ہوئے۔ حماس رہنما عزت الرشیق کے مطابق رفح شہرکی سرنگ میں6 مغوی اسرائیلی فضائی حملوں میں مارے گئے تھے، یرغمالیوں میں امریکی اسرائیلی اور ایک روسی اسرائیلی شہری شامل تھا‘ ہم اپنے قیدیوں کی زندگیوں کا جوبائیڈن سے زیادہ خیال رکھتے ہیں اس لیے ہم نے جنگ بندی کے لیے ان کی تجاویز اور اقوام متحدہ کی قرارداد کو قبول کیا تھا مگر نیتن یاہو نے اسے مسترد کیا۔ اس خبر پر ردعمل دیتے ہوئے امریکی صدر بائیڈن نے کہا تھا کہ گولڈ برگ پولن امریکی شہری تھے اور ان کی لاش ملنے پر میں “غمناک اور غصے میں ہوں، حماس کے رہنما ان جرائم کی قیمت ادا کریں گے”۔ امریکی نائب صدر اور ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار کملا ہیرس نے اپنے ردعمل میں حماس کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی خون اس کے ہاتھوں پر ہیں۔ اسرائیل کا غزہ اور مغربی کنارے میں ظلم و ستم تھم نہ سکا، گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران صیہونی فورسز کے حملوں میں مزید 89 فلسطینی شہید جبکہ 205 زخمی ہو گئے۔عرب میڈیا کے مطابق غزہ کے وسطی علاقے نصیرات میں اسرائیلی حملوں میں 20 افرادشہید ہوئے، شمالی غزہ میں اسرائیلی فوج کے گھروں پر حملوں میں 7 فلسطینی شہید جبکہ متعددزخمی ہو گئے۔رپورٹ کے مطابق رفاہ میں بھی صیہونی فورسز کی بمباری سے 2 فلسطینی نوجوان شہید ہوگئے، مغربی کنارے میں صیہونی فوج کی کارروائیوں میں 2 فلسطینی شہید ہوئے جبکہ 20 کو گرفتار کر لیا گیا، جنین میں بھی بمباری سے 2 فلسطینیوں نے جام شہادت نوش کیا۔ اسلامی ممالک کی نمائندہ تنظیم ’آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن‘ کا 50 واں وزرائے خارجہ اجلاس کیمرون میں منعقد ہوا۔ او آئی سی ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں اسرائیل کے غزہ پر حملوں اور کشمیر سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس سے خطاب میں سیکرٹری جنرل او آئی سی حسین ابراہیم طہٰ نے غزہ میں خواتین اور بچوں کی شہادت اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کہا کہ اسرائیل کو ان جرائم پر جوابدہ ٹھہرانے کی ضرورت ہے۔ سیکرٹری جنرل او آئی سی نے کشمیریوں کے حق خودارادیت کے لیے حمایت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی صورت حال تشویشناک ہے۔ اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے سیکرٹری خارجہ سائرس سجاد قاضی نے عالمی برادری مطالبہ کیا کہ اسرائیل کو فلسطینی علاقوں میں ملٹری آپریشن سے فوری روکنے کے لیے مناسب اقدامات کریں۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دیگر مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ اور نمائندوں نے عالمی برداری پر زور دیا کہ فلسطین سمیت دیگر علاقوں کے تنازعات کو حل کیے بغیر دنیا میں پائیدار امن ممکن نہیں۔ مزید برآں امریکی صدر جوبائیڈن نے غزہ میں فریقین کے درمیان جنگ بندی معاہدے کے جلد طے پا جانے کی امید کا اظہار کیا ہے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا ہے کہ حماس اور اسرائیل جنگ بندی معاہدے کے بنیادی نکات پر متفق ہیں اور ہم معاہدے کی تکمیل کے قریب پہنچ چکے ہیں۔امریکی صدر نے جنگ بندی معاہدے پر پیشرفت کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے مزید کہا کہ ہم جنگ روکنے کے راستے پر تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔
