
تیونس سٹی (انٹرنیشنل ڈیسک) تیونس کی پولیس نے صدارتی امیدوار عیاشی زمال کو آیندہ ماہ ہونے والے انتخابات کی مہم کی تفصیلات کے بارے میں دروغ گوئی کے الزام میں گرفتار کر لیا ۔ 6اکتوبر کے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے منظور کردہ 3امیدواروں میں شامل عیاش زمال کو دارالحکومت کے پولیس اسٹیشن لے جایا گیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق زیر حراست عیاش زمال کے مطلوبہ توثیقی دستخط کو جھوٹا قرار دیا گیا تھا۔ ان کی عزیمون پارٹی کے خزانچی کو گزشتہ ماہ ایسے ہی الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا تھا اور اس پر 13 ستمبر کو مقدمہ چلایا جائے گا۔ بیلٹ پر حاضر ہونے کے لیے امیدواروں کو 10ہزار رجسٹرڈ رائے دہندگان، 10 پارلیمنٹرینز یا 40 مقامی عہدیداروں کے دستخطوں کی فہرست پیش کرنی ہو گی۔انتخاب لڑنے کے لیے پہلے ہی منظور شدہ 3امیدواروں کے علاوہ مزید 3نے اپنی نااہلی کے خلاف کامیابی سے اپیل کی ہے جس سے ان کے لیے انتخاب لڑنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ادھر ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) نے شمالی افریقی ملک کے صدر قیس سعید پر اپنے حریفوں کو انتخاب لڑنے سے روکنے کا الزام لگایا ہے۔ دوسری مدتِ صدارت کے لیے کوشش کرنے والے سعید نے 2019 ء کے انتخابات میں اقتدار حاصل کیا تھا لیکن 2021ء میں اقتدار پر طاقت سے قبضہ کر لیا ۔ اب تک تیونس میں 8ممکنہ امیدواروں پر مقدمہ چلاکر انہیں سزا سنائی جاچکی ہے۔ اس سے قبل گزشتہ ماہ عدالت نے فری دستورین پارٹی کی خاتون سربراہ اور صدارتی انتخابات کی امیدوار عبیر موسی کو 2سال قید کی سزا سنائی تھی۔ ان پر خود مختار اعلیٰ انتخابی اتھارٹی کی توہین کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ صدر قیس سعید کی پالیسیوں کی مخالفت کرنے پر عبیر موسی گزشتہ برس اکتوبر سے زیر حراست تھیں۔ جیل میں ہونے کے باوجود عبیر موسی نے اپنی دفاعی کمیٹی کے ذریعے صدارتی انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے۔
