اسلام آباد:سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے دعویٰ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان اور پاکستان مسلم لیگ نواز مذاکرات کے لیے تیار ہیں جب کہ اسٹیبلشمنٹ کو کھلی چھٹی دینے کا مشورہ دیا ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) توہین عدالت کیس کی سماعت کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئےانہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی وزراء سیاسی میدان میں پی ٹی آئی کے بانی کے قریب کہیں نہیں کھڑے، انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی پر متعدد پابندیوں کے باوجود 8 فروری کو لوگ پی ٹی آئی کو ووٹ دینے باہر آئے ۔
انہوں نے حکومت پر عمران خان کی سیاست کو ختم کرنے کی کوشش میں سب کچھ تباہ کرنے کا الزام لگایا، انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی سطح پر الگ تھلگ ہو گیا ہے کیونکہ چین نے ملک سے فاصلہ برقرار رکھا ہے جبکہ حکومت کو عالمی قرض دینے والے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پاس معیشت کو گروی رکھنے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
انہوں نے ای سی پی سے درخواست کی کہ وہ ان کے اور پی ٹی آئی کے بانی کے بارے میں اپنا رویہ نرم کرے، یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ پی ٹی آئی کے بانی کے بغیر ملک آسانی نہیں چل سکتا۔
انہوں نے تمام مسائل کے حل کو تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان بات چیت سے جوڑتے ہوئے مشورہ دیا کہ قومی سطح پر ایک عظیم سیاسی بات چیت ہونی چاہیے۔
ٹیسٹ میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی مایوس کن کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لوگوں کو دعا کرنی چاہیے کہ بنگلہ دیشی بلے باز اب گیند نہ دیکھ سکیں، پاکستان ٹیم کی کارکردگی کو حکومت سے جوڑتے ہوئے کہاکہ یہ بھی حکومت کی طرح بس بیان بازی کی حد تک ہیں ۔
اس سے قبل فواد چوہدری توہین عدالت کیس میں ای سی پی میں پیش ہوئے جس کی سماعت 19 ستمبر تک ملتوی کردی گئی۔

