English Al Qamar Urdu جون 26, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

14 شہریوں کے قتل میں ملوث فوجیوں کو بھارتی سپریم کورٹ نے کلین چِٹ دے دی

بھارت کی سپریم کورٹ نے شمال مشرقی ریاست ناگا لینڈ میں 14 شہریوں کے قتل کے کیس میں فوجیوں پر سے کرمنل پروسیجر کی دفعات ختم کردی ہیں۔ دو رکنی بینچ نے کہا کہ عدالت نے تو کرمنل پروسیجر ختم کردیا ہے تاہم مسلح افواج کا نظم اِن اہلکاروں کے خلاف محکمہ جاتی اور نظم و ضبط کی کارروائی کرنا چاہے تو کرسکتا ہے۔

2021 میں ناگا لینڈ کے ضلع مون میں بھارتی فوجیوں نے دہشت گرد اور باغی ہونے کے شبہے میں 6 شہریوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ اس واقعے کے خلاف احتجاج کے دوران فورسز اور پولیس سے جھڑپوں میں مزید 8 شہری جان سے گئے تھے۔

جن لوگوں کو فورسز نے دہشت گرد یا باغی سمجھ کر مار ڈالا تھا وہ دراصل کان کن تھے اور ایک ٹرک میں سوار ہوکر جارہے تھے۔

مرکزی حکومت نے 30 فوجیوں کے خلاف مقدمہ چلانے کی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا۔ اس حوالے سے جاری کیے جانے والے نوٹیفکیشن کو ناگا لینڈ کی حکومت نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ ریاستی حکومت کا کہنا تھا کہ مرکزی حکومت فوجیوں کو قانونی کارروائی سے بچانا چاہتی ہے۔ ناگا لینڈ کی حکومت نے چیف جسٹس چندر چوڑ کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ کو بتایا کہ شہریوں کو کسی جواز کے بغیر قتل کرنے والے فوجیوں کے خلاف تمام ضروری شواہد موجود ہیں مگر مرکزی حکومت مقدمہ چلانے کی اجازت دینے سے انکاری ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے