English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

یوکرین کو جنگ کے دوران انتہائی کٹھن حالات درپیش ہیں، ناٹو سربراہ

روسی وزارت دفاع کی جانب سے جاری کردہ تصویر میں 122ایم ایم راکٹ لانچر حملہ کررہا ہے

برسلز (انٹرنیشنل ڈیسک) ناٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے نے کہا ہے کہ یوکرین روس کے ساتھ جنگ کے آغاز کے بعد سخت ترین حالات کا سامنا کر رہا ہے۔ مارک روٹے نے ناٹو ہیڈ کوارٹر میں فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر اسٹب سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ روٹے نے فن لینڈ کی جانب سے یوکرین کو 2 ار ب یورو سے زیادہ کی امداد فراہم کرنے کا خیر مقدم کیا۔ اپنے بیان میں ناٹو سربراہ کا کہنا تھا کہ روس یوکرین کے توانائی کے بنیادی ڈھانچوں پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ یوکرین ممکنہ طور پر فروری 2022 ء سے اب تک کے سب سے کٹھن موسم سرما کا سامنا کر رہا ہے۔ یوکرین کی ناٹو کی رکنیت کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں روٹ نے کہاکہ میں اس مرحلے پر قیاس آرائیاں نہیں کرنا چاہتا، لیکن واضح طور پر یہ ایک ناقابل واپسی راستہ ہے۔ مارک روٹ نے یہ بھی بتایا کہ یوکرین کو فراہم کی جانے والی فوجی امداد کے موضوع پر امریکا کی سربراہی میں جرمنی کے رامسٹین فوجی اڈے پر12 اکتوبر کو منعقد ہونے والے اجلاس میں تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ روس ناٹو اور فن لینڈ کے لیے پورے یورپ میں اور اس سے آگے تک براہ راست اور سب سے بڑا خطرہ ہے۔ روس 2طرح کی جنگ لڑ نے میں مصروف ہے۔ ایک طرف یوکرین میں بین الاقوامی قوانین سمیت حدود کو پار کررہا ہے اور دوسری طرف سائبر حملے کرکے ہائبرڈ جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ ادھر روسی حکام نے بیلگورود کے علاقے میںجنگی زون میں توسیع کردی ۔ پیترووکا اور سولوویوکا کے دیہات کے داخلی راستے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور مقامی رہائشیوں کے انخلا اور نئی رہائش گاہوں میں ان کے قیام کا آغاز بھی کردیا گیا ہے۔ یہ بستیاں بیلگورود سے تقریبا 30 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہیں۔ بیلگورود کے گورنر پیٹرووکا کہنا ہے کہ لاوارث مکانات اور املاک کی حفاظت وزارت دفاع کے خصوصی دستے کریں گے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے