حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) واٹر کارپوریشن نے نادہندگان اور غیر قانونی کنکشنز کے خلاف گرینڈ آپریشن کا آغاز کردیا ، ڈیفالٹرز کا جملہ ریکارڈ مرتب ، حتمی نوٹسز جاری کر دیے گئے، اندرون 7 یوم واجبات کی عدم ادائیگی اور دستاویزی کارروائی مکمل نہ کرنے والوں کے کنکشن منقطع کرنے اور قانونی کارروائی کا عندیہ۔ میڈیا سیل حیدرآباد واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق منیجنگ ڈائریکٹر/ چیف ایگزیکٹو آفیسر حیدرآباد واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن زاہد کھیمٹیو نے ملازمین کی 10 ماہ تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور کارپوریشن کو لاحق شدید مالی بحران کا نوٹس لیتے ہوئے پہلے مرحلے میں گھر بیٹھے تنخواہیں وصول کرکے ادارہ پر مالی بوجھ بننے والے گھوسٹ ملازمین کو بلا امتیاز فارغ کیا ۔ دوسرے مرحلہ میں نادہندہ صارفین ، غیر قانونی کنکشنز اور واٹر کنکشنز کے حصول میں مروجہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا آغاز کردیا ہے ۔ آپریشن کو موثر، شفاف اور بلا امتیاز بنانے کے لیے مذکورہ صارفین کا جامع ریکارڈ مرتب کرکے ٹاسک فورس کو فراہم کر دیا گیا ہے ۔ منیجنگ ڈائریکٹر کی ہدایت کے مطابق آپریشن کے دوران جملہ AENs اور ٹیکسیشن ونگ بھی ٹاسک فورس کی معاونت کرے گا، انفرادی طور پر جاری کردہ حتمی نوٹسز میں ڈیفالٹرز کو ان کے اپنے حق میں مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ نوٹس موصول ہونے کے بعد اندرون7 یوم اپنے ذمہ واجب الادا جملہ بقایاجات کی ادائیگی کو یقینی بنائیں اور ایسے صارفین جو مروجہ طریقہ کار اور دفتری قواعد کے برخلاف حاصل کردہ کنکشن کے ذریعہ پانی استعمال کر رہے ہیں، وہ براہِ راست پانی کی چوری میں ملوث ہیں اور ان کا یہ عمل ارتکاب جرم شمار کیا جاتا ہے ، وہ کسی بھی قانونی کاروائی سے بچنے کے لیے دی گئی مہلت سے استفادہ کریں ۔ واضح رہے کہ ناجائز طریقہ سے حاصل کردہ پانی ناصرف غیر قانونی ہے بلکہ ایسے پانی سے ہونے والے غسل اور وضو بھی آپ اور آپ کے اہل خانہ کی عبادات کو مشکوک بناتا ہے۔ اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر مذکورہ صارفین کو اس ضمن میں متعلقہ اسٹاف کے رویہ یا سروسز کے حوالہ سے تحفظات/ شکایات ہیں تو وہ اس مدت کے دوران کارپوریشن کے علاقائی دفاتر سے رابطہ کریں، شکایات کا ازالہ نہ ہونے کی صورت میں وہ سول جج اینڈ جوڈیشل مجسٹریٹ IIحیدرآباد کی جانب سے فراہم کردہ مزید 7 دن کی مہلت کے دوران بلا تامل اپنی شکایت تحریری طور پر بذریعہ آفس سپرنٹنڈنٹ منیجنگ ڈائریکٹر/ چیف ایگزیکٹو آفیسر حیدرآباد واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کو بھی دے سکتے ہیں ۔
