بھارت کے صوبے پنجاب احتجاج کرنے والے کسانوں سے پولیس کا تصادم ہوا ہے جس کے نتیجے میں کسان زخمی ہوگئے ہیں۔ کسان بھارت مالا نامی ڈیم پراجیکٹ کے لیے حکومت کی طرف سے لی جانے والی زمین کا معقول معاوضہ نہ دیے جانے پر احتجاج کر رہے ہیں۔
کسانوں کا کہنا ہے کہ حکومت نے اُن کی زمین تو لے لی مگر مارکیٹ ویلیو کے حساب سے ادائیگی نہیں کی جارہی۔ جو زمین حکومت نے ڈیم کے لیے لی ہے وہ غیر معمولی نوعیت کی زرخیز زمین ہے جس کے مارکیٹ ویلیو زیادہ ہے۔ احتجاج کرنے والے کسانوں کا کہنا ہے کہ حکومت جو رقم متاثرہ کسانوں کو دے رہی ہے وہ مارکیٹ ویلیو سے 60 فیصد تک کم ہے۔ اتنا کم معاوضہ قبول نہیں کیا جاسکتا۔ کسان اس معاملے کو لیکر عدالت جانے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ کسانوں نے احتجاج کے دوران سیکیورٹی فورسز پر پتھراؤ بھی کیا اور لاٹھیوں سے حملے بھی۔ پولیس نے احتجاج کرنے والے کسانوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے داغے جس کے نتیجے میں چند کسانوں کی حالت خراب ہوگئی۔
جمعہ کو کسان بٹھنڈا کے میسر خانہ گاؤں کے باہر جمع ہوئے اور شدید احتجاج کیا۔ بھارتی کسان یونین ایکتا اُپ گرہ کی قیادت میں ہونے والے احتجاج میں کسانوں نے ریاستی حکومت کے خلاف نعرے بازی کی اور شاہراہ بند کردی جس کے نتیجے میں گاڑیوں کی آمد و رفت متاثر ہوئی اور بہت سی گاڑیاں راستے میں اٹک گئیں۔

