بھارت کے وزیرِاعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ 10 سال کے عرصے میں بہت سے فصلوں کی زیادہ سے زیادہ امدادی قیمت ادا کی جاتی رہی ہے۔ مودی کا کہنا ہے کہ زرعی شعبے کو زیادہ سے زیادہ مضبوط کرنا حکومت کی ترجیحات میں سرِفہرست ہے۔ انہوں نے پنجاب اور ہریانہ کے کسانوں کو یقین دلایا ہے کہ بیشتر فصلوں کی زیادہ سے زیادہ امدادی قیمت ادا کرنے کے حوالے سے کام ہو رہا ہے۔ تمام متعلقہ امور کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ اس حوالے سے کسان قیادت کو بہت جلد اعتماد میں لیا جائے گا تاکہ نوبت احتجاج تک نہ پہنچے۔
بھارت کی ریاستوں پنجاب اور ہریانہ سے تعلق رکھنے والے کسانوں نے پانچ سال کے دوران کئی بار بہت بڑے پیمانے پر احتجاج کیا ہے جس کے نتیجے میں مرکزی دارالحکومت اور دوسرے بہت سے شہروں میں حالات خراب ہوتے رہے ہیں۔ کسانوں کا احتجاج کچلنے کے لیے دہلی، پنجاب اور ہریانہ کی پولیس تشدد آمیز ہتھکنڈے بھی آزماتی رہی ہے۔
دو ماہ قبل پنجاب اور ہریانہ کے کسانوں نے ایک بار پھر اپنے بنیادی مطالبات منوانے کے لیے بڑے پیمانے پر احتجاج کا ڈول ڈالا۔ کسانوں کا ایک بنیادی مطالبہ ہے کہ قانون بناکر ضمانت فراہم کی جائے کہ ملک بھر میں تمام فصلیں زیادہ سے زیادہ امدادی قیمت پر خریدی جائیں گی۔
بھارتی وزیرِاعظم کی طرف سے فصلوں کو زیادہ سے زیادہ امدادی قیمت پر خریدنے کا اعلان حکومتی پالیسی میں غیر معمولی مثبت تبدیلی کا پتا دیتی ہے۔ کسانوں کے احتجاج کے باعث کئی کئی ہفتوں تک صورتِ حال انتہائی کشیدہ رہتی تھی اور کئی ریاستوں میں آمد و رفت کا نظام بُری طرح متاثر رہتا رہا ہے۔
بھارتی پنجاب کے کسانوں نے اپنے مطالبات منوانے کے لیے دہلی پہنچ کر دھرنے دینے کی راہ اپنائی ہے۔ اس کے نتیجے میں دہلی میں بھی لاکھوں لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ حکومت کے لیے کبھی کبھی کسانوں کا احتجاج سوہانِ روح بھی ثابت ہوا ہے۔

