English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

پی ٹی آئی کے تین بڑے سوشل میڈیا اکاؤنٹس براہِ راست عمران خان کے زیرِ انتظام ہونے کا انکشاف

القمر

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے سوشل میڈیا نیٹ ورک کے حوالے سے ہونے والی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ پارٹی کے تین اہم آفیشل اکاؤنٹس – عمران خان، تحریک انصاف، اور پی ٹی آئی آفیشل – براہ راست بانی چیئرمین عمران خان سے جُڑے ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، یہ تینوں اکاؤنٹس بیرون ملک سے عمران خان کی بہن علیمہ خان کے ذریعے بھیجے جانے والے پیغامات کی بنیاد پر چلائے جا رہے ہیں۔

تحقیقات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو مبینہ طور پر فوج اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے خلاف تنقیدی اور جارحانہ مہمات کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ سرکاری تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان اکاؤنٹس کا انتظام بیرون ملک موجود افراد کے ذریعے کیا جا رہا ہے، جنہیں عمران خان نے خود نامزد کیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر ان تحقیقات کی بنیاد پر فوجداری نوعیت کی کوئی کارروائی عمل میں آتی ہے تو اس کے براہ راست اثرات عمران خان پر مرتب ہو سکتے ہیں، کیونکہ جن اکاؤنٹس کے ذریعے ریاست اور فوج مخالف مہم چلانے کا الزام ہے، وہ انہی کے کنٹرول میں ہیں۔

ذرائع کے مطابق ماضی میں خود عمران خان نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سامنے تصدیق کی تھی کہ یہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس ان کے ماتحت ہیں۔ علاوہ ازیں پی ٹی آئی کے بعض رہنماؤں نے بھی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے روبرو ایسے ہی بیانات دیے ہیں۔ ان رہنماؤں سے اسلام آباد پولیس کے انسپکٹر جنرل کی سربراہی میں تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے موجودہ چیئرمین بیرسٹر گوہر، سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، اور سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم جیسے رہنماؤں کا ان اکاؤنٹس پر کوئی اختیار نہیں۔ ان اکاؤنٹس کے فالوورز کی تعداد لاکھوں میں ہے، اور انہیں براہ راست عمران خان کے پیغامات کے ذریعے چلایا جاتا ہے۔

ذرائع نے الزام عائد کیا ہے کہ جبران الیاس اور اظہر مشوانی بیرون ملک سے عمران خان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی نگرانی کر رہے ہیں۔ جبران الیاس، جو امریکہ میں مقیم ہیں، پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم کے سربراہ سمجھے جاتے ہیں اور متعدد وی لاگرز اور ڈیجیٹل ایکٹیوسٹس سے رابطے میں ہیں۔

دوسری جانب، اظہر مشوانی، جو پہلے پاکستان میں سرگرم تھے، 9 مئی کے واقعات کے بعد برطانیہ منتقل ہو گئے۔ رپورٹس کے مطابق، علیمہ خان اپنے بھائی عمران خان کی ہدایت پر سوشل میڈیا ٹیم کو بیانات بھیجتی ہیں۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ جبران الیاس، اظہر مشوانی، اور علی ملک کے ساتھ مستقل رابطے میں رہتی ہیں تاکہ پارٹی کا بیانیہ ترتیب دیا جا سکے اور سوشل میڈیا پر مہمات چلائی جا سکیں۔

ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر جاری مواد کو حکومت اور اسٹیبلشمنٹ فوج اور ریاست مخالف قرار دیتی ہے۔ اس سے قبل بھی ان سرگرمیوں کے حوالے سے تحقیقات کی جا چکی ہیں، اور اب حال ہی میں اسلام آباد پولیس کے آئی جی کی سربراہی میں ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی گئی ہے۔

جے آئی ٹی کو دی گئی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے کم از کم 15 رہنماؤں کو سمن جاری کیے جا چکے ہیں، جن میں بعض افراد پیش ہو چکے ہیں جبکہ کچھ نے تاحال کوئی جواب نہیں دیا۔

تحقیقات کے دائرہ کار کو مزید وسعت دیتے ہوئے، جے آئی ٹی نے پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر، حماد اظہر، سلمان اکرم راجہ، رؤف حسن، اسد قیصر، عون عباس اور وقاص اکرم سمیت دیگر رہنماؤں کو طلب کیا ہے۔

علاوہ ازیں پارٹی کی سوشل میڈیا ٹیم کے 10 کارکنوں کو بھی نوٹس بھیجے گئے ہیں، جن میں آصف رشید، محمد ارشد، صبغت اللہ ورک، اظہر مشوانی، محمد نعمان افضل، جبران الیاس، سید سلمان رضا زیدی، ذلفی بخاری، موسیٰ ورک اور علی حسنین ملک شامل ہیں۔

یہ تحقیقات حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان جاری کشیدگی میں مزید شدت پیدا کر سکتی ہیں۔ اگلے چند ہفتے ان معاملات کے حوالے سے انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے