وزیراعظم شہباز شریف سے امریکی کمپنیوں کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے ملاقات کی جس میں کریٹیکل منرلز پر تاریخی معاہدہ اور کئی مفاہمت کی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط کیے گئے۔ ملاقات میں ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار، وفاقی وزرا اور آرمی چیف بھی شریک تھے۔
وزیراعظم ہاؤس سے جاری اعلامیے کے مطابق امریکی کمپنیوں نے پاکستان میں کان کنی اور انفرااسٹرکچر کے شعبوں میں سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر امریکی وفد کو پاکستان کے تانبے، سونے اور دیگر قیمتی معدنی ذخائر پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس کے بعد دو اہم ایم او یوز پر دستخط ہوئے۔ معدنیات اور لاجسٹکس کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
ایف ڈبلیو او اور امریکی کمپنی کے درمیان کریٹیکل منرلز سے متعلق معاہدہ اس ملاقات کی خاص پیش رفت رہا۔ ابتدائی مرحلے میں 50 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا گیا جبکہ معاہدے کے تحت پاکستان سے اینٹیمونی، تانبا، سونا اور ٹنگسٹن ایکسپورٹ کیا جائے گا۔ امریکی کمپنی پاکستان میں جدید پولی میٹلک ریفائنری بھی قائم کرے گی جو روزگار، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور پائیدار ترقی کو فروغ دے گی۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ این ایل سی اور ایک اور امریکی کمپنی کے درمیان لاجسٹکس اور تعمیرات کے شعبے میں بھی ایم او یو پر دستخط ہوئے ہیں۔ امریکی وفد نے اس موقع پر پاکستان کے ساتھ طویل المدتی شراکت داری کی خواہش ظاہر کی۔ حکومت کے مطابق یہ معاہدے نہ صرف معدنیات کے شعبے میں نئی راہیں کھولیں گے بلکہ پاکستان میں غیرملکی سرمایہ کاری کی ایک نئی مثال بھی قائم کریں گے۔
