واشنگٹن: خوبی نہ ظاہر میں، نہ باطن میں،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر صحافیوں کے خلاف اپنے سخت اور جارحانہ رویّے کا مظاہرہ کیا ہے اور اس بار نشانے پر نیویارک ٹائمز کی رپورٹر کیٹی راجرز آگئیں۔
صدرٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر پوسٹ کرتے ہوئے رپورٹر کو “a third rate reporter who is ugly, both inside and out” یعنی “تیسری درجے کی رپورٹر جو اندر اور باہر دونوں طرف سے بدنما ہے” جیسے الفاظ سے مخاطب کیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے اس تازہ بیان نے ایک مرتبہ پھر امریکی صدر اور میڈیا کے درمیان جاری کشیدہ تعلقات کو نمایاں کردیا ہے۔ مبصرین کے مطابق ٹرمپ نے اپنے دورِ صدارت میں متعدد بار صحافیوں کو نشانہ بنایا، انہیں جھوٹا، جانبدار اور عوام دشمن تک قرار دیا، تاہم کسی صحافی کی ذاتی صورت یا کردار پر اس قدر سنگین حملہ غیرمعمولی سمجھا جا رہا ہے۔
یہ حملہ گزشتہ چند ہفتوں میں خاتون صحافیوں کے خلاف ٹرمپ کی مسلسل تنقید اور توہین کی ایک اور مثال ہے۔ جب صحافی اپنی ذمہ داری نبھاتے ہیں، تب ان پر ذاتی حملے کرنا صرف ان کی عزت کو نہیں بلکہ آزادی اظہار اور جمہوری صحافت کو نشانہ بناتا ہے۔
ریاست اور حکمرانوں کی طرف سے صحافیوں کو خاموش کرنے کی کوششوں پر آزادی اظہارِ رائے کے ہر حامی کو آواز اٹھانی چاہئےکیونکہ تنقید، اظہار کی آزادی اور حقائق تک عوام کی رسائی جمہوریت کی بنیاد ہے،
یاد رہے کہ کیٹی راجرز نے ایک مضمون میں صدر کی عمر اور اس سے منسلک ضعف پر سوالات اٹھائے تھے۔
