خیبر پختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے کہا ہے کہ جیل سپرنٹنڈنٹ اس قدر بااختیار ہو چکے ہیں کہ وہ وزیرِ اعلیٰ کو بھی عمران خان سے ملاقات سے روک رہے ہیں۔
گفتگو کرتے ہوئے شفیع جان نے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ اگر وفاق خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنا چاہتا ہے تو کر کے دیکھ لے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر صوبے میں ایسے کون سے حالات ہیں جن کی بنیاد پر گورنر راج کی بات کی جا رہی ہے۔
معاونِ خصوصی نے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کا جتنا ورکنگ ریلیشن شپ ہونا چاہیے، وہ موجود ہے، اس کے باوجود سہیل آفریدی کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ ان کے مطابق وزیرِ اعلیٰ ہر جمعرات ملاقات کے لیے جاتے ہیں، تاہم آج انہیں جانے سے روک دیا گیا۔
شفیع جان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم سے فون پر ملاقات کرانے کی درخواست کی گئی تھی، مگر اب تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جیل سپرنٹنڈنٹ اتنے طاقتور ہیں کہ وہ نہ آئین کو مانتے ہیں اور نہ ہی ہائی کورٹ کے احکامات پر عمل کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ تحریک سے متعلق ذمہ داریاں محمود اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو سونپی گئی ہیں، اور پارٹی ان دونوں کی جانب سے کیے جانے والے فیصلوں کو تسلیم کرے گی اور اسی کے مطابق آگے بڑھے گی۔
معاونِ خصوصی برائے اطلاعات نے یہ بھی بتایا کہ بانیٔ پی ٹی آئی کے بیٹوں نے جنوری میں پاکستان آنے کا عندیہ دیا ہے۔
