English Al Qamar Urdu جون 26, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

سندھ میں وڈیرہ شاہی کا بھیانک چہرہ: “ونی” کے نام پر دو معصوم بہنوں کی زندگی داؤ پر لگ گئی

القمر

ڈھرکی میں غیر قانونی جرگے کا ظالمانہ فیصلہ؛ غریب خاندان پر 10 لاکھ روپے جرمانہ اور گاؤں بدری کا حکم

ڈھرکی:خصوصی رپورٹ

سندھ کے دیہی علاقوں میں قانون کی گرفت کمزور ہونے اور “وڈیرہ شاہی” کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ نے انسانیت کو ایک بار پھر شرمسار کر دیا۔ ڈھرکی کے نواحی گاؤں ‘سمندر بھیو’ میں ایک بااثر وڈیرے نے ریاست کے اندر ریاست قائم کرتے ہوئے غیر قانونی جرگے میں دو معصوم بہنوں کو “ونی” (خون بہا میں بچیوں کی شادی) کرنے اور لاکھوں روپے جرمانہ ادا کرنے کا ظالمانہ فیصلہ صادر کر دیا ہے۔ اس غیر انسانی فیصلے کے خلاف آواز اٹھانے پر متاثرہ غریب خاندان کو تشدد کا نشانہ بنا کر گاؤں سے دربدر کر دیا گیا ہے۔

کمسن بچیاں ظلم کی بھینٹ: جرگے کا بھیانک فیصلہ

تفصیلات کے مطابق، گاؤں کے رہائشی عبدالحکیم بھیو نے میڈیا کے سامنے اپنی دکھ بھری داستان سناتے ہوئے بتایا کہ بااثر وڈیرے شاہنواز بھیو نے ایک خود ساختہ اور غیر قانونی جرگہ منعقد کیا۔ جرگے میں عبدالحکیم کے بیٹے وسیم بھیو پر “کالا” (سیاہ کاری) کا جھوٹا الزام عائد کیا گیا۔ وڈیرے نے اس نام نہاد جرم کے بدلے میں عبدالحکیم کی دو معصوم بیٹیوں، 12 سالہ انیساء اور 10 سالہ شمائلہ کو مخالف فریق کو “ونی” میں دینے کا حکم دیا۔ مزید برآں، خاندان پر 10 لاکھ روپے کا بھاری جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔

بچیوں کی رخصتی سے انکار پر خاندان کی دربدی

متاثرہ والد کا کہنا ہے کہ جب اس نے اپنی کمسن بچیوں کو مخالفین کے حوالے کرنے اور ان کی زندگی برباد کرنے سے انکار کیا، تو وڈیرے کے کارندوں نے ظلم کی انتہا کر دی۔ عبدالحکیم، اس کی معصوم بچیوں اور بینائی سے محروم بوڑھی والدہ کو زبردستی گھر سے نکال کر گاؤں سے دربدر کر دیا گیا۔ متاثرہ شخص کا موقف ہے کہ اس کے بیٹے پر لگایا گیا الزام سراسر لغو ہے، کیونکہ جس خاتون کا حوالہ دیا جا رہا ہے وہ اپنے شوہر سے خلع لے کر عرصہ دراز سے لاڑکانہ میں مقیم ہے اور اس کا ان کے خاندان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بے حسی

سندھ میں بچیوں پر ہونے والے اس قسم کے مظالم وڈیرہ شاہی کے اس فرسودہ نظام کا شاخسانہ ہیں جہاں معصوم جانوں کو کرنسی کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ وہ انصاف کے لیے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں لیکن مقامی پولیس بااثر وڈیرے کے خلاف کارروائی سے کتراتی نظر آتی ہے۔

متاثرہ خاندان نے وزیراعلیٰ سندھ، ڈی آئی جی سکھر اور ایس ایس پی گھوٹکی سے اپیل کی ہے کہ اس غیر قانونی جرگے کے ذمہ داران کے خلاف فوری کارروائی کی جائے، بچیوں کو تحفظ فراہم کیا جائے اور انہیں ان کے گھر واپسی کا حق دلایا جائے۔ سماجی حلقوں نے بھی اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے سندھ کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکا قرار دیا ہے۔

  • Hasan Ahmed Hasan Ahmed

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے