کراچی: جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیمالرحمن نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (PIA) کے زوال اور خسارے کے ذمہ دار بڑے سیاسی عناصر کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی، پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) اور مسلم لیگ ن (PML‑N) سمیت حکومتوں نے مل کر قومی ایئر لائن میں جعلی بھرتیاں، سفارشاتی تقرریاں اور غیر پیشہ ور افراد کی خدمات شامل کرکے ادارے کو نقصان پہنچایا۔
حافظ نعیمالرحمن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے کبھی قومی فخر تھا، مگر بدانتظامی، سفارشات، بدعنوانی اور سیاسی مداخلتوں نے اسے تباہ کردیا۔ ان کے مطابق جعلی بھرتیوں، غیر اہل عملے اور مفاد پرست سیاسی حلقوں کی وجہ سے پی آئی اے اپنی قدیم ساکھ کھو چکی اور مسلسل خسارے میں چلی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ PPP، PML‑N اور PTI تینوں نے باری باری اقتدار میں آ کر پی آئی اے میں سفارشات کے تحت بھرتیاں اور غیر پیشہ ورانہ تقرریاں کیں، جس سے ادارے کی پروفیشنل کارکردگی متاثر ہوئی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر PIA نے حالیہ مالی شراکت کے باوجود قومی خزانے میں مثبت شراکت دی ہے، تو اسے کیوں بیچا گیا؟ ان کے مطابق عوام کو اس بات کا جواب ملنا چاہیے کہ قومی اثاثے نقصان میں کیوں گئے اور ذمہ دار کون ہے۔
حافظ نعیم نے مزید کہا کہ سیاسی اشرافیہ اور بیوروکریسی ایک دوسرے کا تحفظ کرتے ہیں جبکہ عام لوگوں اور قومی اداروں کا بھلا کوئی نہیں کرتا، اور اسی نے پی آئی اے جیسے اہم ادارے کو نقصان پہنچایا۔
پس منظر:
پی آئی اے اس سال نجکاری کے عمل سے گزری ہے، جس میں عارف حبیب کنسورشیم نے 135 ارب روپے میں قومی ایئر لائن کے 75 فیصد حصص خرید لیے ہیں، تاکہ خسارے میں چلنے والے ادارے کی کارکردگی بہتر کی جا سکے۔
اگرچہ اس بیان کے براہِ راست شواہد میڈیا رپورٹس میں نہیں ملے کہ “جعلی بھرتیاں تینوں پارٹیوں نے کیں”، لیکن حافظ نعیم کے بیانات میں یہی الزام عائد کیا گیا ہے۔
