English Al Qamar Urdu جون 26, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

لائیو پروگرام میں پراسرار مداخلت: احسن اقبال نے واقعےکی وضاحت کردی

القمر

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے ساتھ نجی ٹی وی چینل کے ایک لائیو پروگرام کے دوران پیش آنے والا واقعہ سوشل میڈیا پر خاصی توجہ کا مرکز بن گیا، جس کے بعد مختلف قیاس آرائیاں اور سوالات سامنے آتے رہے۔

پروگرام کے دوران اچانک اور پراسرار انداز میں رابطہ منقطع ہونے اور موبائل فون بند ہو جانے سے ناظرین حیران رہ گئے، جبکہ پس منظر میں سنائی دینے والی آوازوں نے اس واقعے کو مزید حیران کن بنا دیا۔ چند ہی لمحوں میں اس مختصر واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی اور صارفین نے اس پر تبصرے شروع کر دیے۔

واقعے کے فوراً بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر یہ سوال گردش کرنے لگا کہ لائیو نشریات کے دوران آخر ایسا کیا پیش آیا کہ ایک وفاقی وزیر کا رابطہ اچانک منقطع ہو گیا۔ بعض صارفین نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پس منظر میں سنائی دینے والی آواز کے بارے میں جاننے کی کوشش کی، جبکہ کچھ حلقوں نے اس معاملے کو غیر معمولی اور سنسنی خیز رنگ دے دیا۔

اس غیر متوقع صورتحال نے پروگرام کے ناظرین اور سوشل میڈیا صارفین دونوں کو متجسس بنا دیا۔

بعد ازاں بڑھتی ہوئی بحث کے بعد احسن اقبال نے خود اس واقعے پر وضاحت پیش کی۔ ایک صحافی کے سوشل میڈیا پیغام کے جواب میں وفاقی وزیر نے بتایا کہ لائیو پروگرام کے دوران ایک شخص کے ساتھ مختصر بحث ہو گئی تھی، جس کے باعث چند لمحوں کے لیے رکاوٹ پیدا ہوئی۔ ان کے مطابق وہ شخص اس بات سے لاعلم تھا کہ وہ اس وقت براہِ راست نشریات میں گفتگو کر رہے ہیں، اسی لاعلمی کے باعث موبائل فون بند ہو گیا اور پروگرام میں تعطل آیا۔

احسن اقبال نے مزید کہا کہ یہ معاملہ معمولی نوعیت کا تھا اور اسے غیر ضروری طور پر بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تھوڑی ہی دیر بعد انہوں نے دوبارہ پروگرام جوائن کر لیا تھا اور گفتگو معمول کے مطابق مکمل ہوئی۔

وفاقی وزیر نے عوام اور سوشل میڈیا صارفین سے اپیل کی کہ اس واقعے پر غیر ضروری سیاست یا قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے، کیونکہ اس میں کسی قسم کی سنجیدہ یا غیر معمولی بات شامل نہیں تھی۔

دوسری جانب وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بھی اس حوالے سے سوشل میڈیا پر وضاحت جاری کی۔ انہوں نے بتایا کہ احسن اقبال سے ان کی براہِ راست بات ہوئی ہے اور واقعے کی نوعیت بالکل سادہ تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے