اسلام آباد : مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف کی کامیابی کے حق میں الیکشن ٹریبونل کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا گیا۔
پاکستان تحریک انصاف کی رہنماءڈاکٹر یاسمین راشد نے 8 فروری 2024ءکے انتخابات میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی کامیابی کے حق میں الیکشن ٹریبونل کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا۔
پی ٹی آئی رہنماءنے اس حوالے سے الیکشن کمیشن کے 30 دسمبر کے فیصلے کے خلاف اسپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے، درخواست کے ساتھ 94 سے زیادہ فارم 45 بھی ساتھ لگائے گئے ہیں۔
ڈاکٹر یاسمین راشد کی طرف سے درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ فارم 45 میں تبدیلی آئینی تقاضوں اور انتخابی شفافیت کے خلاف ہے، حتمی نتائج مرتب کرنے سے قبل امیدواروں کو نوٹس جاری کرنا قانونی تقاضا تھا جو پورا نہیں کیا گیا۔
الیکشن ٹریبونل نے ان کی درخواست تکنیکی بنیادوں پر خارج کی اور حقائق و قانون کا درست جائزہ نہیں لیا۔
سپریم کورٹ سے استدعا ہے کہ الیکشن ٹریبونل کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر یاسمین راشد کو کامیاب قرار دیا جائے۔
خیال رہے کہ الیکشن ٹربیونل کی جانب سے جاری فیصلے میں این اے 130 لاہور سے نواز شریف کی کامیابی کا نوٹی فکیشن درست قرار دے دیا گیا۔
الیکشن ٹربیونل نے اس حوالے سے فیصلہ سناتے ہوئے ڈاکٹر یاسمین راشد کی نواز شریف کے خلاف درخواست کو خارج کردیا تھا اور لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 130 سے مسلم لیگ ن کے صدر کی کامیابی کا نوٹیفکیشن درست قرار دے دیا۔
اس سلسلے میں الیکشن ٹریبونل میں نواز شریف کی جانب سے بیرسٹر اسد اللہ چٹھہ نے دلائل دیے جس کے بعد الیکشن ٹریبونل کے جج رانا زاہد محمود نے کیس کا فیصلہ سنایا اور ڈاکٹر یاسمین راشد کی درخواست خارج کردی۔
