نئی دہلی: جماعت اسلامی ہند کے شعبہ خواتین کی قومی سیکرٹری رحمت النساءعبدالرزاق نے مدھیہ پردیش اسمبلی میں پیش کیے گئے چونکا دینے والے اعداد و شمار پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، جس میں انکشاف ہوا کہ گزشتہ 6 برسوں کے دوران ریاست میں لاپتا قرار دی گئی 2,69,500 خواتین اور لڑکیوں میں سے 50 ہزار سے زائد اب تک بازیاب نہیں ہو سکیں۔
ان میں تقریباً 48 ہزار خواتین اور 2,200 لڑکیاں ایسے معاملات میں شامل ہیں جو تاحال ”زیرِ التوا“ درج ہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رحمت النساءعبدالرزاق نے کہا کہ یہ اعداد و شمار محض نمبر نہیں بلکہ ہر عدد کے پیچھے ایک زندہ انسان، ایک بیٹی، بہن یا ماں کی کہانی ہے۔
ان کے مطابق اتنی بڑی تعداد میں خواتین اور بچیوں کا لاپتہ ہونا ہمارے سماجی ضمیر اور ریاستی اداروں کی کارکردگی پر سنگین سوال اٹھاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ صورتِ حال اس گہری صنفی ناانصافی کی نشاندہی کرتی ہے جو خواتین کو انسانی اسمگلنگ، استحصال اور تشدد جیسے خطرات سے دوچار کرتی ہے۔
انہوں نے اس امر پر بھی توجہ دلائی کہ اندور، بھوپال، گوالیار اور جبل پور جیسے بڑے شہری مراکز میں ہزاروں خواتین کی گمشدگی کے واقعات رپورٹ ہونا اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ شہری علاقوں میں فوری طور پر ”اربن سیفٹی آڈٹس“ کرائے جائیں اور پولیسنگ کو صنفی حساس بنایا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ عوامی مقامات، تعلیمی اداروں، کام کی جگہوں اور ٹرانسپورٹ کے نظام کو خواتین کے لیے محفوظ بنانا ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔
رحمت النساءنے واضح کیا کہ یہ بحران صرف ایک ریاست تک محدود نہیں بلکہ ملک گیر سطح پر تشویش ناک رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے ذرائع ابلاغ اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بڑھتی ہوئی بے حسی، فحاشی اور خواتین کو محض ایک شے کے طور پر پیش کرنے کے رجحان پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ اس کے تدارک کے لیے ذمہ دار میڈیا طرزِ عمل اور اخلاقی تربیت کی ضرورت ہے۔
