جے ڈی وینس نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے ممکنہ فوجی کارروائی سے متعلق بیانات کو سنجیدہ لیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ واضح کر چکے ہیں کہ ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ امریکا اس تنازع کا حل سفارتی ذرائع سے نکالنا چاہتا ہے اور امید ہے کہ ایرانی قیادت آئندہ مذاکرات میں مثبت رویہ اپنائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ سفارتکاری کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم ضرورت پڑنے پر دیگر تمام آپشنز بھی امریکا کے پاس موجود ہیں۔
دوسری جانب مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران اس وقت یورینیم افزودہ نہیں کر رہا، لیکن اس صلاحیت کے حصول کیلئے سرگرم ہے۔ انہوں نے ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر عدم آمادگی کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران بین البراعظمی میزائل حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس معاملے پر بات چیت سے گریز کر رہا ہے۔
ادھر امریکا اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام پر مذاکرات کا تیسرا مرحلہ جنیوا میں متوقع ہے۔ امریکی حکام کے مطابق واشنگٹن سفارتی حل کا خواہاں ہے، تاہم صورتحال کے پیش نظر تمام ممکنہ اقدامات کو زیر غور رکھا جا رہا ہے۔
