وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ خان نے کہا ہے کہ افغانستان کی دراندازی کا پاکستانی مسلح افواج نے بہترین جواب دیا، دہشتگردوں کو موقع دیا گیا ہے کہ وہ ٹھیک ہوجائیں، دہشتگرد اگر اپنی کارروائیوں سے باز نہیں آتے تو انہیں ختم کردیا جائے گا۔
سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا کہ افغان دہشت گرد بھارت کے ایجنٹ کے طورپر کارروائیاں کر رہے ہیں، پاک فوج کسی بھی جارح دشمن کو سخت اور مؤثر جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے، تاہم مسلح افواج نے خود کو عاقلانہ حد تک محدود رکھا ہے۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ایوان میں پاس ہونے والی قرارداد کا مطلب ہے پوری قوم مسلح افواج کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے، معرکہ حق کے موقع پر بھی پوری قوم نے مسلح افواج پر اعتماد کیا، بھارت بھی ہماری افواج کے سامنے نہیں ٹھہر سکا تھا۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان کو ایک خودمختار ریاست کی طرح رویہ اپنانا سیکھنا ہوگا، دوحہ میں کئی ہفتوں مذاکرات ہوئے، ڈیورنڈ لائن کی نگرانی کیلئے دوست ممالک پر مشتمل کمیشن بنانے کی تجویز دی گئی تھی، آج کا پیغام یہ ہے کہ پوری قوم مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ سیاسی معاملات کو میز پر بیٹھ کر سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھ کر حل کرنا چاہئے، ہماری طرف سے کوشش ہوتی رہی ہے لیکن انکار دوسری طرف سے ہوتا رہا ہے، 2018میں جس کیلئے ارینج منٹ ہوا، اس ارینج منٹ کیلئے اب بھی پوری تیاری ہے لیکن وہ ارینج منٹ آگے سے نا ملے تو وہ ان کی مرضی ہے۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ وزیراعظم نے تین مرتبہ آپ کو مذاکرات کی دعوت دی ہے لیکن آپ نے جواب نہیں دیا، ڈاکٹرز ہونے چاہئیں، علاج ہونا چاہئے اس پر بیٹھ کر بات ہوسکتی ہے۔
