واشنگٹن ڈی سی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز ایران کے خلاف “وسیع پیمانے پر جنگی آپریشن شروع کرنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔
انہوں نے ایرانی نظام کو “ظالم اور بدفطرت لوگوں کا ایک شرپسند گروہ” قرار دیتے ہوئے اس حملے کو ناگزیر قرار دیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے پریس کانفرنس کے دوران میڈیا کو بتایا: “ہم نے کچھ ہی دیر قبل ایران میں بڑے پیمانے پر جنگی کارروائیوں کا آغاز کر دیا ہے۔ ان آپریشنز کا واحد مقصد ایرانی نظام کی جانب سے درپیش فوری خطرات کا خاتمہ اور امریکی عوام کا دفاع کرنا ہے۔”
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایرانی حکومت کی دھمکی آمیز سرگرمیاں خود امریکہ، بیرونِ ملک مقیم امریکی افواج، فوجی اڈوں اور دنیا بھر میں ہمارے اتحادیوں کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ: “ایرانی نظام گزشتہ 47 سالوں سے ‘امریکہ مردہ باد’ جیسے نعرے لگا رہا ہے۔”
ٹرمپ نے ایرانی قیادت پر الزام عائد کیا کہ وہ ایک طویل عرصے سے امریکہ، ہماری افواج اور کئی ممالک میں بے گناہ افراد کے خلاف “قتلِ عام کی خونی مہم” چلا رہے ہیں۔ تاہم، صدر ٹرمپ نے فی الوقت شروع کی گئی فوجی کارروائیوں کی نوعیت یا ہدف بنائے گئے مخصوص علاقوں کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
دوسری جانب، تہران کی جانب سے ان تازہ ترین پیش رفتوں اور امریکی اعلانِ جنگ پر تاحال کوئی باقاعدہ ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
