امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے بعد کیوبا میں بھی بڑی سیاسی تبدیلی آسکتی ہے اور وہاں کی موجودہ حکومت زیادہ عرصہ قائم نہیں رہ سکے گی۔
امریکی نشریاتی ادارے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے اپنی خارجہ پالیسی اور آئندہ حکمت عملی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا بیک وقت کئی معاملات پر کام کرسکتا ہے تاہم بعض اوقات ایک وقت میں ایک بڑے مسئلے پر توجہ دینا زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت امریکی حکومت کی تمام تر توجہ ایران کے معاملے پر مرکوز ہے لیکن کیوبا بھی امریکی ایجنڈے میں شامل ہے۔
ٹرمپ کے مطابق کیوبا گزشتہ کئی دہائیوں سے مشکلات کا شکار ہے اور اب وہاں حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ حکومت امریکا کے ساتھ کسی بھی قسم کے سمجھوتے کے لیے بے چین ہے۔
صدر ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کو کیوبا سے متعلق امور میں اہم کردار سونپا جاسکتا ہے اور پھر دیکھا جائے گا کہ معاملات کس سمت میں جاتے ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے ایک روز قبل وائٹ ہاؤس میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران بھی امریکی صدر نے کہا تھا کہ یہ صرف وقت کی بات ہے کہ امریکا میں مقیم کیوبن نژاد افراد دوبارہ اپنے آبائی ملک جا سکیں گے۔
