اسلام آباد: وزارت داخلہ کی درخواست پر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات سے متعلق امور طے کرنے کے لیے ایک اہم کمیٹی قائم کر دی ہے۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے جس میں کمیٹی کے ارکان اور اس کی ذمہ داریوں کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ یہ کمیٹی اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد سے متعلق مختلف انتظامی اور قانونی معاملات کا جائزہ لے گی۔ اس اقدام کا مقصد بلدیاتی نظام سے متعلق امور کو واضح کرنا اور انتخابی عمل کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق اسلام آباد کے چیف کمشنر محمد علی رندھاوا کو کمیٹی کا کنوینر مقرر کیا گیا ہے جبکہ الیکشن کمیشن کے اسپیشل سیکرٹری پالیسی ظفر اقبال حسین کو کمیٹی کا رکن نامزد کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل لوکل گورنمنٹ الیکشنز ندیم قاسم کو بھی کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے۔
اسی طرح ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان نواز میمن کو بھی کمیٹی کا رکن مقرر کیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق کمیٹی مختلف متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطہ کر کے بلدیاتی انتخابات کے لیے ضروری اقدامات کو حتمی شکل دے گی۔
الیکشن کمیشن کے مطابق کمیٹی ٹاؤن کارپوریشنز کی حد بندی سے متعلق نوٹیفکیشن کو حتمی شکل دینے کی ذمہ دار ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ ہر ٹاؤن کارپوریشن میں یونین کونسلز کی تعداد کے تعین سے متعلق معاملات کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
اس کے علاوہ حد بندی کے مطابق مستند نقشوں اور علاقوں کے ناموں کی فراہمی بھی کمیٹی کی ذمہ داریوں میں شامل ہوگی تاکہ انتخابی حلقوں کی وضاحت اور انتظامی معاملات کو بہتر انداز میں منظم کیا جا سکے۔
الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ کمیٹی آئی سی ٹی لوکل گورنمنٹ کنڈکٹ آف الیکشنز رولز 2015 میں ممکنہ ترامیم کا مسودہ بھی تیار کرے گی۔ اس سلسلے میں آئی سی ٹی لوکل گورنمنٹ ترمیمی آرڈیننس 2026 کے مطابق ضروری قانونی تبدیلیوں پر بھی غور کیا جائے گا۔
الیکشن کمیشن کے مطابق کمیٹی باقاعدگی سے اجلاس منعقد کرے گی اور بلدیاتی انتخابات سے متعلق تمام معاملات کو جلد از جلد مکمل کرنے کی کوشش کرے گی تاکہ انتخابی عمل کو مؤثر اور شفاف انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق وزارت داخلہ کی جانب سے گزشتہ روز الیکشن کمیشن کو ایک باضابطہ درخواست بھیجی گئی تھی جس میں بلدیاتی انتخابات سے متعلق امور کو منظم کرنے کے لیے کمیٹی تشکیل دینے کی سفارش کی گئی تھی، جس کے بعد الیکشن کمیشن نے یہ اقدام اٹھایا ہے۔
