کئی برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل کے قیام کی راہ ہموار کرنے پر باضابطہ معافی مانگی جائے۔
برطانوی وزیراعظم کئیر اسٹارمر کو لکھے گئے ایک خط میں کہا گیا ہے کہ 1916 کے بالفور معاہدے کے اثرات آج بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ خط میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ اسی معاہدے کے نتیجے میں 1948 میں فلسطینیوں کے قتل عام کے بعد اسرائیل کا قیام عمل میں آیا۔
اس خط پر 45 سے زائد برطانوی ارکان پارلیمنٹ اور لارڈز نے دستخط کیے ہیں۔
یاد رہے کہ سلطنت عثمانیہ کی شکست کے بعد برطانیہ نے 1948 تک فلسطین پر حکمرانی کی تھی۔
تاہم برطانیہ کی مختلف حکومتیں اس دور کے تاریخی ریکارڈ کو تسلیم کرنے اور اس پر معافی مانگنے سے انکار کرتی رہی ہیں۔
