ڈھاکہ: بنگلہ دیش کی تیرہویں قومی اسمبلی کے پہلے اجلاس کا آغاز ہنگامہ خیز ماحول میں ہوا، جہاں اپوزیشن جماعتوں نے صدر محمد شہاب الدین کے خطاب کا بائیکاٹ کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کردیا۔ اپوزیشن ارکان نے صدر کو “فاشزم کا ساتھی” قرار دیتے ہوئے سرخ پلے کارڈز کے ساتھ احتجاج کیا اور مختلف نعرے لگائے۔
جمعرات کو ڈھاکہ میں واقع قومی پارلیمنٹ (جاتیا سنگسد بھبن) میں ہونے والے اجلاس کا آغاز تلاوتِ قرآن پاک سے ہوا، بعد ازاں اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب کیا گیا، تعزیتی قرارداد پیش کی گئی اور سابق حکومت کے جاری کردہ 133 آرڈیننس بھی ایوان میں پیش کیے گئے۔
اجلاس کے اختتام کے قریب جب صدر محمد شہاب الدین پارلیمنٹ میں خطاب کے لیے پہنچے تو اپوزیشن کے ارکان اپنی نشستوں سے اٹھ کھڑے ہوئے اور احتجاج شروع کردیا۔ ارکان نے سرخ پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر “جولائی سے غداری بند کرو” اور دیگر نعرے درج تھے۔ اس دوران “قاتل باہر جاؤ” اور “جمہوریت اور فاشزم ساتھ نہیں چل سکتے” جیسے نعرے بھی لگائے گئے۔
قومی ترانہ بجائے جانے پر اپوزیشن ارکان نے احتراماً احتجاج روک کر خاموشی سے کھڑے ہوکر ترانہ سنا، تاہم صدر کے خطاب کے آغاز کے ساتھ ہی احتجاج دوبارہ شروع ہوگیا اور اپوزیشن ارکان نعرے لگاتے ہوئے ایوان سے باہر چلے گئے۔
بعد ازاں جماعتِ اسلامی کے امیر اور قائد حزب اختلاف ڈاکٹر شفیق الرحمن نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ اپوزیشن نے حکومت اور اسپیکر دونوں سے درخواست کی تھی کہ صدر کو خطاب کی اجازت نہ دی جائے، لیکن ان کی درخواست قبول نہیں کی گئی۔
قائد حزب اختلاف ڈاکٹر شفیق الرحمن کا کہنا تھا کہ اپوزیشن عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
اجلاس کے آغاز میں سینئر رکن پارلیمنٹ خندکار مشرف حسین نے عارضی طور پر کارروائی کی صدارت کی۔ بعد ازاں ایوان نے حافظ الدین احمد کو اسپیکر اور قیصر کمال کو ڈپٹی اسپیکر منتخب کرلیا، جنہوں نے بعد میں اپنے عہدوں کا حلف اٹھایا۔
وزیراعظم طارق رحمان نے نئے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ پارلیمنٹ عوام کے منتخب نمائندوں کی حقیقی نمائندہ اسمبلی ہے اور اسے ایک مؤثر جمہوری ادارہ بنایا جائے گا۔
اجلاس کے دوران ایک تعزیتی قرارداد بھی پیش کی گئی جس میں مختلف قومی و بین الاقوامی شخصیات کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا گیا، جس کے بعد مرحومین کے لیے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی اور دعا کی گئی۔
جبکہ قومی پارلیمنٹ کے اپوزیشن چیف وہپ نہید اسلام نے کہا ہے کہ اسپیکر سے درخواست کی جائے گی کہ کوئی فاشسٹ یا اس کے اتحادی پارلیمنٹ میں اپنی تقریروں کے ذریعے ماحول خراب نہ کریں۔
تعزیتی قرارداد پر بات کرتے ہوئے قومی پارلیمنٹ کے اپوزیشن چیف ناہید السلام نے کہا کہ ہم پارلیمنٹ میں بیٹھنے کے اہل ہیں کیونکہ شہدا نے اپنی جانیں قربان کیں۔ انہوں نے جولائی کے قتل عام، شریف عثمان ہادی، ابرار فہد اور فیلالی خاتون کے قتل کے واقعات کے لیے انصاف کا مطالبہ کیا اور کہا کہ یہ افراد تعزیتی قرارداد میں شامل کیے جائیں تاکہ قوم کی طرف سے احترام کیا جا سکے۔
ناہید السلام نے نوجوان نسل کو تاریخ اور جدوجہد کی یاد دلانے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ قومی پارلیمنٹ ملک کا اعلیٰ جمہوری ادارہ ہے۔
