متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں مقیم اسرائیلی شہریوں کا انخلاء مکمل طور پر انجام پا گیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق متحدہ عرب امارات سے اسرائیلی شہریوں کا انخلاء مکمل ہو گیا ہے اور دو خصوصی پروازوں کے ذریعے تقریباً 600 شہریوں کو تل ابیب منتقل کر دیا گیا ہے، یہ پروازیں مکمل طور پر مفت چلائی گئیں اور تمام اخراجات متحدہ عرب امارات کی حکومت نے برداشت کیے، جس پر اسرائیلی میڈیا نے امارات کی مہمان نوازی اور تعاون کو نمایاں طور پر سراہا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق متحدہ عرب امارات میں پھنسے ہزاروں اسرائیلی شہریوں کو وطن واپس پہنچانے کے لیے چلائی جانے والی خصوصی پروازیں، وزارت نقل و حمل کی قیادت میں تیار کیے گئے ایک وسیع منصوبے کا حصہ ہیں۔ یہ آپریشن اس وقت دوبارہ شروع ہوا جب ہفتے کے آخر میں امارات میں ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کے سبب فضائی اڈے بند ہونے کی وجہ سے تمام پروازیں مؤخر کر دی گئی تھیں۔ منصوبے کا مقصد امارات میں محصور اسرائیلیوں کو محفوظ طریقے سے تل ابیب منتقل کرنا ہے۔
اسرائیلی وزارت خارجہ نے اس موقع پر اعلان کیا کہ مشکل حالات میں متحدہ عرب امارات کی جانب سے فوری تعاون اسرائیل کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کا ثبوت ہے، شہریوں کی محفوظ واپسی کے لیے امارات کی جانب سے کیے گئے اقدامات بین الاقوامی سطح پر تعاون کی شاندار مثال ہیں۔
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ خصوصی پروازیں ایسے وقت میں چلائی گئیں جب تل ابیب اور خطے میں موجود حالات کشیدہ تھے اور انخلاء کا یہ عمل شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کی غرض سے عمل میں آیا۔ اسرائیل نے امارات کی اس فوری اور مؤثر مدد پر تشکر کا اظہار کیا اور دونوں ممالک کے تعلقات کی مضبوط بنیاد کو سراہا۔
