راولپنڈی: عمران خان کی اپنے بچوں سے ٹیلی فون پر گفتگو کرائی گئی، جس کے دوران قاسم اور سلیمان نے والد سے ان کی صحت کے بارے میں دریافت کیا اور خیریت پوچھی۔
جیل ذرائع کے مطابق یہ کال تقریباً 25 سے 30 منٹ تک جاری رہی، جس میں عمران خان نے اپنے بچوں کے ساتھ خیریت سے بات چیت کی اور اپنے معاملات کے حوالے سے بچوں کو اعتماد میں لیا، عمران خان بچوں سے بات کرکے خوش محسوس ہوئے اور ان کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھی گئی۔
جیل ذرائع نے بتایا کہ اس کال کے دوران بچوں نے والد کی موجودہ حالت، راحت اور جیل میں سہولیات کے بارے میں دریافت کیا، جس پر عمران خان نے اپنے بچوں کو مطمئن کرنے کی کوشش کی۔
معاون ذرائع کے مطابق بانی پی ٹی آئی اور ان کے اہل خانہ کے درمیان اس قسم کے رابطے قیدیوں کی جذباتی اور نفسیاتی صحت کے لیے اہم تصور کیے جاتے ہیں، اور اس سے خاندان کے درمیان مضبوط تعلقات برقرار رہنے میں مدد ملتی ہے۔ اس موقع پر جیل انتظامیہ نے تمام حفاظتی اقدامات اور سکیورٹی پروٹوکول پر سختی سے عمل کیا تاکہ رابطے کے دوران کوئی رکاوٹ یا غیر متوقع واقعہ پیش نہ آئے۔
ذرائع کے مطابق اس کے علاوہ مستقبل میں بچوں اور دیگر اہل خانہ کے ساتھ رابطوں کے مزید انتظامات کیے جانے کا امکان بھی موجود ہے تاکہ خاندان اور قیدی کے درمیان تعلقات مسلسل برقرار رہیں اور قیدی کی ذہنی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوں۔
