English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

سپر ٹیکس پر ڈیفالٹ سرچارج: ٹیکس دہندگان کے ساتھ کھلا ظلم

القمر

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے سپر ٹیکس کے معاملے پر ڈیفالٹ سرچارج کی حالیہ کارروائیاں شدید تنقید کی زد میں آ گئی ہیں، اور ماہرین اسے ٹیکس دہندگان کے ساتھ صریح ناانصافی قرار دے رہے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ ٹیکس دہندگان نے سپر ٹیکس کی ادائیگی جان بوجھ کر نہیں روکی تھی بلکہ یہ اقدام اسلام آباد ہائی کورٹ کے واضح فیصلے کی بنیاد پر کیا گیا تھا۔ بعد ازاں 27 جنوری 2026 کو عدالتی فیصلہ تبدیل ہونے پر انہی ٹیکس دہندگان نے فوری طور پر سپر ٹیکس ادا کرنا شروع کر دیا۔ اس کے باوجود ایف بی آر کی جانب سے انہیں “ڈیفالٹر” قرار دے کر سرچارج عائد کرنا انصاف کے بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق کسی بھی قسم کا ڈیفالٹ سرچارج یا جرمانہ اسی وقت عائد کیا جا سکتا ہے جب “mens rea” یعنی بدنیتی یا دانستہ خلاف ورزی ثابت ہو۔ موجودہ کیس میں نہ تو کوئی بدنیتی موجود ہے اور نہ ہی ٹیکس چوری کا کوئی عنصر۔ بلکہ صورتحال اس کے برعکس ہے، جہاں ٹیکس دہندگان نے عدالتی احکامات کی مکمل پاسداری کی۔

عدالتی نظائر بھی اس مؤقف کی تائید کرتے ہیں کہ جہاں بدنیتی ثابت نہ ہو وہاں محض تکنیکی بنیادوں پر جرمانے عائد کرنا غیر قانونی ہے۔ ماضی میں عدالتیں ایسے کئی اقدامات کو کالعدم قرار دے چکی ہیں، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ایف بی آر کا موجودہ طرزِ عمل نہ صرف سخت بلکہ غیر آئینی بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔

کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات سے ٹیکس دہندگان کا اعتماد بری طرح مجروح ہوگا اور پہلے سے دباؤ کا شکار معیشت پر مزید منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ریاست خود اپنے شہریوں کو قانون پر عمل کرنے کی سزا دے رہی ہے؟

ماہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر اس پالیسی پر نظرثانی کی جائے اور ان ٹیکس دہندگان کو ریلیف دیا جائے جنہوں نے کسی بدنیتی کے بغیر، صرف عدالتی فیصلوں کی روشنی میں عمل کیا۔

اگر اس معاملے کو درست نہ کیا گیا تو یہ نہ صرف قانونی تنازعات کو جنم دے گا بلکہ ٹیکس نظام کی ساکھ کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچائے گا۔

  • ویب ڈیسک
  • وہاج فاروقی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے