واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کا آغاز ہوگیا ہے، جس کے بعد مزید اہم شخصیات کی برطرفیوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق حالیہ تبدیلیوں کے باعث اعلیٰ سطح کے حکام میں بے چینی پائی جا رہی ہے اور کئی سینئر عہدیدار اپنے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اٹارنی جنرل پام بونڈی کی برطرفی کے بعد کابینہ میں اضطراب بڑھ گیا ہے، جبکہ دیگر اہم عہدیداروں کو بھی ہٹائے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ممکنہ طور پر کاش پٹیل، ڈینیئل ڈرسکل اور لوری شاویز ڈی ریمر بھی ان افراد میں شامل ہیں جنہیں عہدوں سے ہٹایا جا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل گزشتہ ماہ ہوم لینڈ سکیورٹی سیکرٹری کرسٹی نوم کو بھی عہدے سے ہٹایا جا چکا ہے، جس کے بعد حکومتی سطح پر تبدیلیوں کا عمل مزید تیز ہونے کا امکان ہے۔
