اسلام آباد: دفتر خارجہ نے واضح اور دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ پاکستان سے ایران پر حملے کے لیے فضائی حدود کے استعمال کا امریکا کی جانب سے کوئی مطالبہ نہیں کیا گیا اور اس حوالے سے تمام تر افواہیں بے بنیاد ہیں۔
خبر رساں اداروں کے مطابق ترجمان نے کہا کہ ایسی کسی بھی پیش رفت سے ہم مکمل طور پر لاعلم ہیں۔ ترجمان کے مطابق پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے اور پانی کے ایک قطرے پر بھی کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی شقیں واضح ہیں جن کے تحت کوئی بھی فریق یک طرفہ طور پر معاہدے سے دستبردار نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ آبی تنازعات کے حل کے لیے قانونی طریقہ کار موجود ہے اور اسی کے تحت پاکستان انٹرنیشنل کورٹ آف آربیٹریشن سے رجوع کر چکا ہے۔ کورٹ کا فیصلہ مغربی دریاؤں پر بھارتی کنٹرول کی حدود کو واضح کرتا ہے اور یہ فیصلہ تمام فریقین پر لازم ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ رن آف دی ریور کے منصوبوں کو بھارت کے مفروضوں کے بجائے عالمی معاہدوں کی روشنی میں دیکھا جانا چاہیے۔ پاکستان اس ثالثی عدالت کے ایوارڈ کو حتمی سمجھتا ہے اور اسے اطمینان بخش قرار دیتا ہے، کیونکہ یہ معاہدے کی پاسداری کو یقینی بناتا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کے حوالے سے ترجمان نے بتایا کہ وہ 23 سے 26 مئی تک چین کا دورہ کریں گے۔ اس دورے کے دوران وہ چینی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کریں گے جس میں دو طرفہ تعاون، اقتصادی شراکت داری اور علاقائی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا جو دونوں ممالک کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
متحدہ عرب امارات سے پاکستانیوں کی بیدخلی کے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ اطلاعات مبالغہ آرائی پر مبنی ہیں۔ امارات میں موجود پاکستانیوں کی بڑی تعداد صورتحال کی عکاس ہے، جبکہ چند افراد کی واپسی کو جلاوطنی قرار دینا غلط اور گمراہ کن ہے۔
آخر میں بھارت میں پاکستانی پنکھے کی دریافت جیسے الزامات پر تبصرہ کرتے ہوئے ترجمان نے انہیں دقیانوسی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی میڈیا کی جانب سے ایسے بے بنیاد الزامات پھیلانا ماضی کے پاکستانی کبوتر والے ڈراموں کی طرح مضحکہ خیز ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
