چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایران کے دارالحکومت تہران پہنچ گئے ہیں، جہاں ان کے اس دورے کو خطے میں جاری سفارتی سرگرمیوں اور ایران و امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا یہ دورہ اس وسیع تر سفارتی عمل کا تسلسل ہے جس میں مختلف فریقین کے درمیان رابطوں کے ذریعے خطے میں امن و استحکام کی راہیں تلاش کی جا رہی ہیں، تہران آمد پر ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے ان کا پرتپاک استقبال کیا جبکہ اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی موجود تھے۔
فوجی ترجمان کے مطابق اس دورے کے دوران اعلیٰ سطحی ملاقاتیں متوقع ہیں جن میں خطے کی مجموعی صورتحال، جاری کشیدگی اور امن کے امکانات سمیت متعدد اہم امور پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی، پاکستان اس پورے عمل میں سفارتی سطح پر ایک فعال کردار ادا کر رہا ہے اور مختلف فریقین کے درمیان رابطوں کو فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ایک حساس مرحلے میں داخل ہے اور جنگ بندی سے متعلق تجاویز پر تہران کے ردِعمل کا انتظار کیا جا رہا ہے، امریکا کی جانب سے ایران کو جو ابتدائی تجاویز دی گئی ہیں ان میں جوہری پروگرام سے متعلق پابندیاں اور آبنائے ہرمز کی کشادگی جیسے نکات شامل ہیں۔
سفارتی ذرائع کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں خلیجی ممالک اور دیگر فریقین کی درخواست پر ایران پر ممکنہ فوجی کارروائی مؤخر کرنے کا عندیہ دیا تھا اور یہ بھی کہا تھا کہ مذاکرات کے ذریعے معاہدے کا ایک بہتر موقع موجود ہے۔
دوسری جانب ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اپنے بیانات میں کہا ہے کہ تہران نے کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کے لیے ہر ممکن راستہ اختیار کرنے کی کوشش کی ہے اور مذاکرات کے لیے تمام دروازے کھلے رکھے گئے ہیں۔
اس سے قبل تہران میں موجود وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی ایرانی صدر، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور دیگر اعلیٰ حکام سے اہم ملاقاتیں کیں، جن میں خطے میں جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، محسن نقوی اپنے دورے کے دوران مسلسل ایرانی قیادت سے رابطے میں ہیں اور مختلف سطحوں پر سفارتی کوششوں کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
