English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کراچی میں بڑھتی کمرشلائزیشن پر ماہرین کی تشویش، ماسٹر پلان پر عملدرآمد کا مطالبہ

القمر

کراچی: شہر میں سڑکوں اور رہائشی علاقوں کی تیزی سے بڑھتی کمرشلائزیشن پر شہری تنظیموں اور اربن ماہرین نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے شہر کے مستقبل کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔

کراچی سٹیزن فورم کے زیر اہتمام کراچی پریس کلب میں ہونے والی پریس کانفرنس میں ماہرین، سماجی کارکنوں اور شہری نمائندوں نے شرکت کی، جہاں شہری منصوبہ بندی، پارکنگ، پانی، سیوریج اور اوپن اسپیسز کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

بیرسٹر شہاب اوستو نے کہا کہ کراچی کے ماسٹر پلان اور زوننگ قوانین کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے، جس کے باعث رہائشی علاقوں کو غیر منصوبہ بندی کے ساتھ کمرشل بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شہر سے روزانہ 50 کروڑ گیلن سے زائد غیر ٹریٹڈ سیوریج سمندر میں پھینکا جا رہا ہے جبکہ سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس طویل عرصے سے غیر فعال ہیں۔

انہوں نے عدلیہ سے بھی اپیل کی کہ کراچی کے شہری مسائل پر خصوصی توجہ دی جائے اور 2019 کے عدالتی فیصلے پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

اربن پلانر محمد توحید نے کہا کہ ہر سڑک کی کمرشل سرگرمی برداشت کرنے کی ایک حد ہوتی ہے، اس لیے کسی بھی علاقے کو کمرشل بنانے سے قبل ٹریفک، پارکنگ اور بنیادی سہولیات کا جامع جائزہ ضروری ہے۔ ان کے مطابق ماسٹر پلان اور ایس بی سی اے پالیسیوں میں ہم آہنگی نہ ہونے کے باعث شہر بے ہنگم انداز میں پھیل رہا ہے۔

کنوینر نرگس رحمان نے کہا کہ رہائشی علاقوں میں بلند عمارتیں تو تعمیر ہو رہی ہیں لیکن پارکنگ اور شہری سہولیات کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں، جس سے شہری زندگی شدید متاثر ہو رہی ہے۔

ماہرین نے مطالبہ کیا کہ رہائشی علاقوں کے امن، ماحولیات اور بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں اور ماسٹر پلان پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے