اسلام آباد: کراچی میں منشیات کیس میں گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی سے متعلق مبینہ طور پر سامنے آنے والی تحقیقاتی رپورٹ نے سوشل میڈیا سمیت سرکاری اور سیکیورٹی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق مبینہ طور پر لیک ہونے والی ایک اسپریڈ شیٹ اور ڈیٹا فائل میں مختلف افراد کے فون نمبرز اور روابط شامل ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے، جنہیں ایک وسیع رابطہ نیٹ ورک کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے ابتدائی جائزے کے مطابق یہ ڈیٹا مختلف شہروں اور شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے مبینہ روابط کی نشاندہی کرتا ہے، تاہم حکام کی جانب سے اس کی آزادانہ تصدیق یا تفصیل تاحال سامنے نہیں آئی۔
دوسری جانب کراچی پولیس نے کیس کی مزید تفتیش کو آگے بڑھاتے ہوئے منی لانڈرنگ اور سائبر کرائم کے پہلوؤں کی تحقیقات کے لیے ایف آئی اے سے باضابطہ مدد طلب کر لی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ معاملے کی ہر زاویے سے چھان بین کی جا رہی ہے اور حتمی نتائج مکمل تحقیقات کے بعد ہی سامنے آئیں گے۔
