اسلام آباد:وفاقی حکومت نے عید الاضحیٰ کے تیسرے روز پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 22، 22 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کردیا، حالیہ معمولی ریلیف اس بڑے اضافے کے مقابلے میں نہایت کم ہے جو گزشتہ چند ماہ کے دوران متعدد مرتبہ کیا جاتا رہا۔
حکومت کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل دونوں کی قیمتوں میں 22 روپے فی لیٹر کمی کی گئی ہے، جس کا اطلاق رات 12 بجے سے ہوگا۔ وزیراعظم آفس کا کہنا ہے کہ شہباز شریف نے قوم سے ریلیف دینے کا وعدہ پورا کیا ہے اور حکومت مشکل معاشی حالات کے باوجود عوام کو سہولت فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ عوام کو ریلیف دینا حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس سے قبل بھی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کر کے عوام کو سہولت فراہم کی، حکومت نے ٹرانسپورٹ، موٹر سائیکل اور رکشہ استعمال کرنے والے افراد کے لیے فیول سبسڈی بھی فراہم کی۔
حالیہ کمی سے قبل رواں برس پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ کیا گیا تھا۔ 6 مارچ 2026 کو حکومت نے عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہونے کا جواز پیش کرتے ہوئے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تقریباً 55، 55 روپے فی لیٹر اضافہ کیا، جس کے بعد پیٹرول 321 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا تھا جبکہ ڈیزل 335 روپے فی لیٹر ہو گیا تھا۔
اس کے بعد 3 اپریل کو ایک اور بڑا جھٹکا دیتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 137 روپے 23 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا، جس کے بعد نئی قیمت 458 روپے 40 پیسے فی لیٹر تک جا پہنچی، جبکہ ڈیزل 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا۔ اس غیر معمولی اضافے پر ملک بھر میں شدید عوامی ردعمل سامنے آیا تھا۔
حکومت نے عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں جزوی کمی کے بعد کچھ ریلیف دینے کا اعلان کیا، مجموعی طور پر پیٹرولیم مصنوعات اب بھی ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ مہنگی ہیں۔ حکومت نے مختلف اوقات میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مرحلہ وار کمی کی مگر صارفین کا کہنا ہے کہ حالیہ 22 روپے کی کمی بھی گزشتہ اضافوں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔
وزیراعظم آفس کے مطابق عالمی سطح پر ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا، جس کے اثرات پاکستان پر بھی پڑے، مشکل حالات کے باوجود عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کی کوشش جاری رکھی جائے گی۔
