English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

وفاقی حکومت نے 43 کھرب روپے کے قومی ترقیاتی پروگرام کی منظوری دے دی

القمر

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے نئے مالی سال کے لیے مجموعی طور پر 43 کھرب روپے کے قومی ترقیاتی پروگرام کی منظوری دے دی ہے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اس بڑے مالیاتی پیکیج کی حتمی توثیق قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں ہوگی، جس کی صدارت وزیر اعظم شہباز شریف کریں گے۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے بتایا کہ اس پروگرام میں 87 ارب روپے اتحادی جماعتوں کے تجویز کردہ منصوبوں کے لیے رکھے گئے ہیں۔ یہ رقم ڈیموں کی تعمیر کے لیے مختص فنڈز کے مساوی ہے، جس سے مخلوط حکومت کی سیاسی قیمت کا اندازہ ہوتا ہے۔

داسو، دیامر بھاشا اور مہمند ڈیموں کی تعمیر کے لیے بالترتیب 25، 25 اور 39 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ سرکاری بنچوں کے ارکان اسمبلی کی سفارش کردہ ترقیاتی سکیموں کے لیے مجموعی طور پر 70 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

احسن اقبال نے اعتراف کیا کہ جاری منصوبوں کی تکمیل کے لیے درکار فنڈز 108 کھرب تک پہنچ چکے ہیں۔ موجودہ بجٹ کی رفتار سے ان منصوبوں کو مکمل ہونے میں ایک دہائی لگ سکتی ہے، بشرطیکہ حکومت کسی بھی نئے ترقیاتی منصوبے کا آغاز نہ کرے۔

مالی مشکلات کے باوجود لاہور بہاولنگر موٹروے جیسے بڑے منصوبے کے لیے محض 25 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کا بنیادی محور وہی منصوبے ہونے چاہئیں جو ملک میں فوری معاشی نمو لانے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

نئے مالی سال کے منصوبوں کے مطابق مجموعی فنڈنگ کا تین چوتھائی حصہ صوبے فراہم کریں گے۔ پنجاب 14.5 کھرب روپے کے ساتھ سب سے زیادہ ترقیاتی بجٹ خرچ کرے گا، جبکہ سندھ کے لیے 816 ارب، خیبرپختونخوا کے لیے 564 ارب اور بلوچستان کے لیے 308 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

وزارت منصوبہ بندی کے مطابق وفاقی پی ایس ڈی پی کا حجم 11.26 کھرب روپے ہے جس میں 267 ارب روپے کی بیرونی امداد بھی شامل ہے۔ وزیراعظم نے وزارت خزانہ کو ہدایت کی ہے کہ ترقیاتی بجٹ کے لیے مزید 200 ارب روپے کی اضافی مالی گنجائش پیدا کی جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے