English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

پاکستان میں کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے کرنے کی سفارش

القمر

اسلام آباد: پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس نے آئندہ مالی سال کے لیے ملکی سطح پر کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی باضابطہ سفارش کی ہے۔

اس تجویز کا مقصد معاشی دباؤ کے شکار محنت کش طبقے کی قوتِ خرید میں بہتری لانا ہے۔

پائیڈ نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں موجودہ 40 ہزار روپے کی ماہانہ اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کا فارمولا پیش کیا ہے۔ ادارے نے اس بات پر زور دیا ہے کہ تنخواہوں کا تعین اب صرف لیبر ڈیپارٹمنٹ کا روایتی معاملہ نہیں بلکہ قومی سطح کا سنگین مسئلہ ہے۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ اجرتوں میں اضافہ براہِ راست غربت کے خاتمے، مقامی طلب کو بڑھانے اور غیر رسمی روزگار کے شعبوں میں بہتری لانے کا باعث بنے گا۔ سماجی استحکام برقرار رکھنے کے لیے اجرتوں کا معقول ہونا وقت کا اہم تقاضا بن چکا ہے تاکہ معیشت متحرک رہے۔

پائیڈ نے شواہد پر مبنی ایک جامع فریم ورک تجویز کیا ہے جس کے تحت مالی سال 2026-27 کے لیے یہ اہداف طے کیے گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ تجاویز قبول کر لی گئیں تو اس سے مزدور طبقے کی زندگیوں میں نمایاں اور مثبت معاشی تبدیلی رونما ہو گی۔

ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اعداد و شمار بھی اس تجویز کی بنیاد بنے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے دس ماہ کے دوران اوسط افراطِ زر 6.19 فیصد رہی ہے جبکہ صرف اپریل کے مہینے میں سالانہ بنیادوں پر افراطِ زر کی شرح 10.9 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔

کم از کم اجرت کا تعین پیداواری ترغیبات اور ملکی معاشی ترقی کے لیے ایک کلیدی عنصر کی حیثیت رکھتا ہے۔ حکومتی حلقوں کی جانب سے اس سفارش پر سنجیدگی سے غور کیے جانے کی توقع ہے تاکہ عام آدمی کے مالی حالات کو بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جا سکیں۔

مستقبل کے معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اس طرح کی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ پائیڈ نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ سماجی تحفظ کے وسیع تر تناظر میں ان سفارشات پر جلد فیصلہ کرے تاکہ بڑھتی قیمتوں کے اثرات کو کچھ حد تک کم کیا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے