اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے دوسرے ملک سے ویزا اوور اسٹے کے باعث ڈی پورٹ ہونے پر شہری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ (پی سی ایل) میں شامل کرنا غیر قانونی قرار دے دیا ہے اور متعلقہ شہری کا نام فوری طور پر پی سی ایل سے نکالنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔
عدالت نے بیرون ملک سفری پابندیوں سے متعلق کیس کا تفصیلی فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ محض ویزا کی مدت ختم ہونے کے بعد اوور اسٹے کی بنیاد پر کسی شہری پر سفری پابندی عائد نہیں کی جا سکتی، ایسے اقدام کے لیے کسی واضح جرم، سیکیورٹی خدشے یا ناقابل تردید شواہد کا ہونا لازمی ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی شہری کو بغیر کسی جرم کے بیرون ملک سفر اور روزگار کے آئینی حق سے محروم کرنا آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے،سفری پابندی کا فیصلہ آئین کے آرٹیکل 4، 9، 10-اے، 15، 18 اور 25 کے تحت دیے گئے حقوق سے متصادم ہے اور اس طرح کسی شہری کا نام پی سی ایل میں رکھنا قانونی تقاضوں کے خلاف ہے۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ ریاست کو شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے ساتھ ساتھ قانون کے دائرے میں رہ کر اقدامات کرنے چاہئیں، اور کسی بھی فرد پر پابندی عائد کرنے کے لیے ٹھوس قانونی بنیاد ہونا ضروری ہے۔
سماعت کے دوران وفاقی حکومت کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ متعلقہ شہری کو ایک خلیجی ملک میں ویزا اوور اسٹے کے باعث ڈی پورٹ کیا گیا تھا اور پالیسی کے تحت اس کا نام پی سی ایل میں شامل کیا گیا تاکہ دیگر شہریوں کے ویزوں کے تحفظ اور ملک کے وقار کو یقینی بنایا جا سکے۔
عدالت نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ محض ڈی پورٹ ہونا کسی شہری کے خلاف سفری پابندی کا جواز نہیں بن سکتا جب تک کہ اس کے ساتھ کسی مجرمانہ سرگرمی یا سیکیورٹی خدشات کا تعلق ثابت نہ ہو۔
عدالت نے حکم دیا کہ متعلقہ شہری کا نام فوری طور پر پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نکالا جائے اور اسے آئینی و قانونی حقوق کے مطابق آزادانہ سفر کی اجازت دی جائے۔
یہ فیصلہ آئندہ ایسے معاملات میں ایک اہم نظیر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے تحت بیرون ملک اوور اسٹے کی بنیاد پر شہریوں پر سفری پابندیاں لگانے کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھ گئے ہیں۔
