پشاور: خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان نے پاکستان تحریک انصاف کے اندر اختلافات اور سیاسی کشیدگی کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی میں کوئی بحران نہیں اور صوبائی صدر سہیل آفریدی مکمل طور پر اپنے منصب پر مضبوط ہیں۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شفیع جان نے کہا کہ سہیل آفریدی کے خلاف چلنے والی تمام قیاس آرائیاں بے بنیاد ہیں اور انہیں کوئی ہٹا نہیں سکتا، پارٹی کے چند ارکان سے وقتی طور پر رابطہ نہیں ہو سکا، تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ پارٹی سے الگ ہو گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی کے حالیہ اجلاس میں 75 ارکان شریک ہوئے جبکہ 17 ارکان موجود نہیں تھے، غیر حاضر ارکان میں سے 5 بیرون ملک، 3 حج پر جبکہ 2 جنوبی افریقہ میں موجود ہیں،یہ ان کی سیاسی زندگی کا سب سے خوشگوار پارلیمانی پارٹی اجلاس تھا۔
شفیع جان نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے حوالے سے بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ اپنے ساتھ 30 ارکان کی حمایت کا دعویٰ کرتے ہیں تو ان ارکان کے نام سامنے لائیں، پارٹی کے اندر کسی قسم کی گروپ بندی موجود نہیں اور جو بھی بانی چیئرمین عمران خان کے بیانیے سے ہٹے گا، اس کی سیاسی حیثیت ختم ہو جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی کئی بڑے سیاسی رہنما عمران خان سے الگ ہوئے لیکن وقت کے ساتھ سیاسی منظرنامے سے غائب ہو گئے جبکہ جو رہنما بانی پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑے رہے وہ آج بھی سیاست میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔
وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ علی امین گنڈاپور وزیراعلیٰ کے عہدے سے ہٹنے کے بعد مسلسل پارلیمانی پارٹی اجلاسوں سے دور ہیں، علی امین نے پارٹی کی بیشتر سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لیا اور صرف ایک دھرنے میں شریک ہوئے تھے۔
