English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

امریکا کے ساتھ سفارتی رابطے تاحال برقرار ہیں، ایرانی وزیر خارجہ کی تصدیق

القمر

تہران: ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے باوجود سفارتی رابطے بدستور قائم ہیں اور دونوں ممالک کے مابین تجاویز کا تبادلہ ہو رہا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران تصدیق کی کہ مواصلاتی راستے اب بھی کھلے ہیں۔

خبر رساں اداروں کے مطابق عباس عراقچی نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان پیغامات کا تبادلہ ہو رہا ہے اور دونوں فریقین تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کسی بھی جارحیت کا فوری اور فیصلہ کن جواب دینے کی مکمل عسکری صلاحیت رکھتا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اسرائیل نے بیروت یا لبنان کے کسی بھی حصے پر حملہ کیا تو ایران سخت اور فیصلہ کن ردعمل دے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایرانی مسلح افواج امریکی مفادات اور ان کے زیر استعمال مقامات کے خلاف دفاعی حکمت عملی اپنا رہی ہیں۔

خطے میں امن کی بحالی کے لیے عباس عراقچی نے پاکستان، سعودی عرب، ترکی، قطر، مصر اور فرانس کے وزرائے خارجہ سے ٹیلیفونک رابطے کیے۔ ان مشاورتوں کا بنیادی مقصد علاقائی کشیدگی میں کمی لانا اور جنگی خطرات کو ٹالنے کے لیے عالمی برادری کو اعتماد میں لینا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے بھی ٹیلی فون پر رابطہ کیا ہے۔

اس گفتگو میں علاقائی امن و سلامتی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران اپنے اہم ہمسایہ ممالک کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی چینلز کا فعال رہنا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ کشیدگی کے باوجود تنازعات کے حل کی گنجائش موجود ہے۔ اگرچہ خطے میں جنگ کے بادل چھائے ہوئے ہیں، تاہم مذاکرات کی میز پر واپسی کے امکانات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔

عالمی سطح پر ان رابطوں کو خطے میں ایک بڑی جنگ کو روکنے کی کوششوں کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تہران کی جانب سے یہ سفارتی سرگرمیاں ظاہر کرتی ہیں کہ ایران موجودہ صورتحال میں تحمل اور سفارت کاری کے ذریعے کشیدگی کو کم کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے