English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

امریکا ایران کے ساتھ مسلح تصادم کا خواہاں نہیں، ٹرمپ کا بڑا بیان

القمر

واشنگٹن: صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے قریبی مشیروں کو واضح طور پر آگاہ کر دیا ہے کہ امریکا اب ایران کے ساتھ کسی نئی مسلح جنگ کا حصہ نہیں بنے گا۔

انہوں نے کہا کہ امریکی حکومت اب تنازعات کے حل کے لیے فوجی طاقت کے بجائے سفارتی ذرائع کو ترجیح دے گی۔

خبر رساں اداروں کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ جب تک ایران کی جانب سے امریکی فوجیوں کو کسی بھی قسم کا نقصان نہیں پہنچایا جاتا، تب تک امریکا کی جانب سے فوجی کارروائی کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھانے کے حق میں بالکل بھی نہیں ہے۔

مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ امریکی پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں استحکام کے لیے ایران کے ساتھ براہِ راست جنگ کے بجائے بات چیت کے دروازے کھلے رکھنا زیادہ سودمند ثابت ہوگا۔

دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں ایک اور اہم پیش رفت کے تحت امریکا کی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان کے مابین جنگ بندی کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔ واشنگٹن میں ہونے والے سہ فریقی مذاکرات کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں اس پیش رفت کی باقاعدہ تصدیق کی گئی ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے اس معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اور لبنان دونوں ممالک نے تنازع کو روکنے کے لیے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

فریقین کے درمیان اگلے مذاکرات 22 جون کو متوقع ہیں جس میں امن کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں گے۔

عالمی امور کے مبصرین اس پیش رفت کو ایک مثبت علامت قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران کے حوالے سے ٹرمپ انتظامیہ کا جارحانہ رویہ ترک کرنا اور اسرائیل و لبنان کے درمیان جنگ بندی خطے میں جاری کشیدگی میں کمی لانے کا باعث بن سکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے