پشاور ہائیکورٹ نےخیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر مینا خان آفریدی کو بیرونِ ملک جانے کی مشروط اجازت دیتے ہوئے انہیں جرمنی میں ایک سرکاری تقریب میں شرکت کی اجازت دے دی ہے۔
عدالت کی جانب سے جاری تحریری حکم نامے کے مطابق درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ وہ صوبائی وزیر تعلیم اور جامعات کے پرو وائس چانسلر ہیں، اور انہیں جرمن حکومت کی جانب سے ایک تقریب میں شرکت کی دعوت موصول ہوئی ہے۔ ان کی 7 جون کو باچا خان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پشاور سے روانگی طے تھی، جس کے لیے صوبائی حکومت بھی پہلے ہی اجازت دے چکی تھی۔
حکم نامے میں بتایا گیا کہ درخواست گزار کو معلوم ہوا کہ ان کا نام بیرونِ ملک جانے پر پابندی والی فہرستوں میں شامل ہے، جس میں ایگزٹ کنٹرول لسٹ اور دیگر امیگریشن ریکارڈز شامل بتائے گئے، جس کے باعث وہ سفر نہیں کر پا رہے تھے۔ اس پر انہوں نے متعلقہ حکام سے رابطے کی کوشش بھی کی تاہم کوئی واضح جواب نہیں ملا۔
عدالتی کارروائی کے دوران ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ درخواست گزار کا نام صرف عارضی نان ایگزٹ لسٹ میں شامل ہے، جبکہ دیگر فہرستوں میں ان کا نام موجود نہیں، ان کا نام 25 ستمبر 2025 کو اس فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔
عدالت نے قرار دیا کہ دستیاب ریکارڈ کے مطابق درخواست گزار کا نام صرف عارضی فہرست میں ہے، لہٰذا انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں محدود مدت کے لیے بیرونِ ملک جانے کی اجازت دی جاتی ہے تاکہ وہ جرمنی میں ہونے والی تقریب میں شرکت کر سکیں۔
حکم نامے کے مطابق صوبائی وزیر کو 10 لاکھ روپے کے مچلکے ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل کے پاس جمع کرانے ہوں گے، یہ اجازت صرف سرکاری دورے کے لیے ہے اور اسے کسی اور مقصد کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے مزید ہدایت کی کہ ایف آئی اے عارضی طور پر درخواست گزار کا نام متعلقہ فہرست سے نکالے اور کیس کے فریقین تفصیلی جواب جمع کرائیں۔ سماعت 18 جون تک ملتوی کر دی گئی ہے۔
