English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

 آزاد کشمیر حکومت کا جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر سخت ردعمل، ہڑتال کو سیاسی دباؤ قرار دے دیا

القمر

مظفرآباد: آزاد کشمیر حکومت کے ترجمان نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے احتجاجی اعلان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کمیٹی عوامی مسائل کے نام پر گمراہ کن اور بے بنیاد بیانیہ پھیلا رہی ہے اور مذاکرات کے بجائے سڑکوں کی سیاست کو ترجیح دے رہی ہے۔

ترجمان کے مطابق حکومت نے ابتدا سے ہی مسائل کے حل کے لیے مذاکرات، ریلیف اقدامات اور عمل درآمد کا راستہ اختیار کیا، دوسری جانب جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے لچک دکھانے کے بجائے دباؤ اور احتجاج کی سیاست کو اپنایا۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے عوامی مطالبات پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مجموعی طور پر 38 میں سے 35 مطالبات تسلیم کر لیے ہیں، اس کے باوجود احتجاج پر اصرار کو عوامی مفاد کے بجائے سیاسی ضد قرار دیا جا رہا ہے، پرامن احتجاج جمہوری حق ضرور ہے لیکن سڑکیں بند کرنا، نظام زندگی مفلوج کرنا اور عوام کو مشکلات میں ڈالنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔

ترجمان نے خبردار کیا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو عوامی مطالبات کے نام پر اپنی مرضی مسلط کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اور اگر ہٹ دھرمی کے ذریعے امن و امان کو خراب کرنے کی کوشش کی گئی تو قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ آزاد کشمیر کو احتجاجی سیاست نہیں بلکہ استحکام، مکالمے اور عملی حل کی ضرورت ہے، اسمبلی اور ریاستی اداروں کے فیصلوں کو سڑکوں کے دباؤ کے ذریعے مسترد نہیں کیا جا سکتا، 9 جون کو انتخابی عمل میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش جمہوری عمل کو متاثر کرنے کے مترادف ہوگی۔ حکومت نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ بندشوں اور ہڑتالوں کے بجائے آئینی اور جمہوری طریقہ کار پر اعتماد کریں۔

ترجمان نے کہا کہ حکومت نے ہمیشہ بات چیت کے دروازے کھلے رکھے ہیں، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے مسلسل محاذ آرائی کا راستہ اختیار کیا ہے، جو خطے کے امن اور استحکام کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے، آزاد کشمیر میں امن و استحکام حکومت کی اولین ترجیح ہے اور کسی بھی گروہ کو عوام کو یرغمال بنانے یا زبردستی نظام زندگی متاثر کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد رہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے 9 جون کو ہڑتال کی کال دے رکھی ہے، جس کے باعث خطے میں صورتحال حساس قرار دی جا رہی ہے اور انتظامیہ نے ممکنہ حالات سے نمٹنے کے لیے انتظامات بھی شروع کر دیے ہیں۔

  • ویب ڈیسک
  • وہاج فاروقی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے